سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 91

91 توفیق خدا بڑھاتا چلائے اس کے مطابق ان کو لیا، ان کی طرف توجہ کی۔چند مہینے ان کے ساتھ محنت کی ، پیار اور محبت کے ساتھ ان کو طریقے سمجھائے اور جب وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے پھر وہ اپنا کام خود سنبھال لیں گے۔اس طرح ہر وقت پیش نظر پہلے سے بڑھتی ہوئی تعداد رہنی چاہئے۔مسلسل ذہن میں یہ بات حاوی رہنی چاہئے کہ میری جماعت میں دعوت الی اللہ کرنے والے پہلے سے بڑھے ہیں کہ نہیں بڑھے؟ کیا میں پہلوں پر ہی راضی ہوں یا میں جان کر عمداً کوشش کر رہا ہوں کہ پہلے سے تعداد بڑھتی چلی جائے۔ہر طبقہ فکر سے رابطہ کے لئے الگ الگ ذرائع استعمال کریں پھر اس کے علاوہ یہ امر بھی دیکھنے والا ہے کہ جن لوگوں کو تبلیغ کی جاتی ہے ان میں کتنے طبقات ہیں اور کیا ہر طبقے کی طرف ہم متوجہ ہیں کہ نہیں ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ بعض اچھی اچھی زمینیں ہیں جو ہمارے ملک میں موجود ہیں ہم ان کی طرف توجہ ہی نہیں کر رہے، جہاں اتفاق سے ایک طرف رُخ ہو گیا بس اسی طرف رخ چل رہا ہے حالانکہ خدا تعالیٰ نے مختلف ممالک میں مختلف قسم کے لوگ پیدا کئے ہیں کچھ باہر سے بھیجے ہیں اور ہر طبقے کے اپنے اپنے حالات ہیں۔ہر طبقہ مزاج کے لحاظ سے یکساں مذہبی نہیں۔ہر طبقہ اپنی نفسیاتی کیفیت کے لحاظ سے یکساں طور پر ایک نئی دعوت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔مختلف طریق درکار ہیں، مختلف قسم کے اسلوب چاہئیں تبلیغ میں۔چنانچہ آپ جب بھی کسی نئے طبقے کی طرف توجہ کریں گے دوبارہ از سر نو مبلغ کو یا امیر کو جو بھی عہدیدار ہے اس طبقے کو ملحوظ رکھ کر نئی محنت کرنی پڑے گی۔جائزہ لینا پڑے گا کہ جن لوگوں کو میں نے دعوت الی اللہ پر مقرر کیا ہے وہ اس طبقے کو مخاطب ہونے کے لئے تیار ہیں کہ نہیں؟ اس کے لئے جائزہ لینا پڑے گا کہ لٹریچر موجود ہے کہ نہیں ؟ کیسٹس موجود ہیں کہ نہیں؟ دیگر معلومات جو گفتگو کے دوران چاہئیں وہ ان لوگوں کو معلوم ہیں کہ نہیں ؟ جس قوم کی طرف ، جس طبقہ انسانیت کی طرف توجہ ہے ان کے حالات کے متعلق یہ لوگ آگاہ ہیں کہ نہیں۔یہاں زمیندار ہیں ناروے میں ان کے حالات اور ہیں شہری لوگوں کے اور ہیں ان کی مذہبی کیفیت اور ہے شہری لوگوں کی مذہبی کیفیت اور ہے۔پھر یہاں باہر سے آکر بسنے والے ہیں۔ان میں عرب ہیں، ان میں سے افریقین ہیں، ان میں ویت نامیز ہیں۔ایک بہت بڑا طبقہ ویت نام کا آج کل شمالی علاقوں کی طرف رخ کر رہا ہے۔اسی طرح بعض دیگر مہاجرین ہیں مختلف ممالک کے، سیلون کے مہاجرین ہیں، بعض اور ممالک کے مہاجرین ہیں۔ان لوگوں کی طرف توجہ کرنا ہے۔پھر قیدی ہیں کئی جرموں کے نتیجے میں کئی بغیر جرم کے قید ہو جاتے ہیں۔کئی جرم کر کے قید ہوتے ہیں لیکن قید کے دوران ان کے اندر اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔اس وقت ان کے پاس وقت ہوتا ہے۔اُس وقت وہ خاص مزاج رکھتے ہیں نیک باتوں کو سننے اور ان پر عمل کرنے کا۔پھر بیمار لوگ ہیں ، ہاسپٹل (Hospital) میں ،غریب لوگ ہیں جن کا یا