سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 54

54 کرتے تھے کہتے تھے سب بھائی بھائی ہیں، کوئی دشمنی نہیں، کوئی نفرت نہیں تو ان باتوں نے ہمارے دل جیتنے شروع کئے۔اگر چہ میں ابھی تک مسلمان نہیں ہوالیکن میرا گاؤں میری آنکھوں کے سامنے مسلمان ہورہا ہے اور میں نے کبھی نہیں روکا کسی کو کیونکہ کوئی ایک بھی ایسی بات نہیں جس پر مجھے اعتراض ہو اس لئے میں نے کوئی دخل نہیں دیا لیکن آج آپ ایک اسلام کا تصور لے کر آئے ہیں اور اس میں آپ گندی گالیاں دے رہے ہیں تو اگر سچائی کی یہی دلیل ہے تو اس نے کہا کر میرالڑ کا میرے پاس ہے میں اس کا دوسری طرف سٹیج لگوا دیتا ہوں اور گالیوں میں اس سے مقابلہ آپ کر لیں لیکن شرط یہ ہے کہ اگر میرا بیٹا جیت گیا تو آپ پھر ہندو ہو جا ئیں اور اگر آپ جیت گئے تو میں اور میرا بیٹا مسلمان ہو جائیں گئے کیونکہ گالیوں کے سوا دلیل ہی کوئی نہیں دے رہے آپ یہ بھی اس کی خوش قسمتی تھی کہ مولوی صاحب نہیں مانے یہ بات ورنہ جس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں بیٹے نے ہار جانا تھا۔اگر کسی کو یقین نہیں آتا تو وہ ربوہ میں انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے اجتماع بند کر کے جس جلسے کی مولویوں کو اجازت دی ہے حکومت نے۔اسکی Tape سن لے کوئی۔اس قدر گندہ دہنی ہے، اس قدر جھوٹے الزامات اور اتہامات کو آپ ایک طرف چھوڑیں ، حضرت اقدس مسیح مود علیہ الصلوۃ والسلام اور دیگر خلفائے سلسلہ کے متعلق ایسی ناپاک اور ایسی گندی زبان استعمال کی ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ پھول پورہ کا کوئی ہندو بھی اس مقابلہ میں جیت سکے۔یہ حالات ہو چکے ہیں! یہاں تک قوم پہنچ رہی ہے اس کو کو نظر نہیں آرہا کہ ہم کہاں چلے گئے ہیں اور کیا ہمارا حال ہو چکا ہے؟" خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 630-631 جماعتی و ذیلی تنظیموں کے اجتماعات پر پابندی کی وجہ سے قوم کی پکڑ کی وعید خطبہ جمعہ 28 دسمبر 1984ء) " اس کے بعد دوسرے درجہ پر ان کا ہاتھ ابھی تک مرکزی تنظیموں پر اٹھ رہا ہے۔ربوہ کی مرکزیت کے خلاف وہ سازشیں کر رہے ہیں اور ان سازشوں کے نتیجہ میں ایک ایک کر کے وہ اپنی طرف سے ربوہ کے مرکزی خدو خال کو ملیا میٹ کرتے چلے جارہے ہیں۔چنانچہ شروع میں بظاہر معمولی بات تھی لیکن اُسی وقت مجھے نظر آگیا تھا کہ آگے ان کے کیا ارداے ہیں۔چنانچہ میں نے وہ لوگ جو خوش فہمی میں کوششیں کر رہے تھے اُن کو بلا کر سمجھایا کہ تم کیوں وقت ضائع کر رہے ہو یہ کام نہیں ہوگا۔شروع میں انہوں نے کھیلوں پر ہاتھ ڈالا کہ ربوہ میں کبڈی ہوگی تو عالم اسلام کو خطرہ پیدا ہو جائے گا یعنی ربوہ میں اگر کبڈی ہوئی تو اس سے تمام دنیا میں عالم اسلام کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ربوہ میں اگر باسکٹ بال کا میچ ہوا تو اس سے مسلمانوں کے جذبات