سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 53 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 53

53 میں اسی طرح صدر پاکستان کی حیثیت ہے تو اس لئے اس بات کو سو فیصدی ثابت کرنے کے لئے وہ یہ رویہ اختیار کرتے ہیں تا کہ کسی قسم کے اشتباہ کا کوئی سوال نہ رہے کہ کس قسم کا انصاف اس ملک میں قائم ہے؟ بہر حال اللہ تعالیٰ سے ہی ہماری ساری امیدیں اور توقعات وابستہ ہیں اور خیر الحاکمین تو وہی ہے۔جب اس کے انصاف کا وقت آیا کرتا ہے تو مالکیت کی کنجیاں چونکہ اس کے ہاتھ میں ہیں اس لئے ہر دوسرا انسان انصاف کے مقام سے معزول کیا جاتا ہے اور خدا کی تقدیر جب اپنے ہاتھ میں انصاف لیتی ہے تو پھر کسی کا بس نہیں چلتا کہ اس انصاف کے مقابل پر کوئی بات کہہ سکے۔تو ہمیں تو خیر الحاکمین سے ہی توقع ہے کہ وہ انصاف فرمائے گا لیکن دعا ہماری یہی ہے کہ اللہ تعالی اس قوم پر رحم فرمائے۔" خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 599-600) مجلس انصار اللہ کے اجتماع پر پا بندی کی خوشی میں مولویوں کی گندہ دہنی کا ذکر خطبہ جمعہ 2 نومبر 1984ء) " ایک دفعہ سندھ میں جہاں ہم ہندؤوں میں تبلیغ کرتے ہیں وہاں کا ایک واقعہ مجھے یاد آ گیا ایک علاقے میں جہاں خدا کے فضل سے بکثرت ہندو مسلمان ہونے شروع ہوئے، کلمہ پڑھنے لگے، شرک چھوڑا۔علما کو پتہ چلا تو انہیں بہت غصہ آیا انہوں نے کہا یہ احمدی ہوتے کون ہیں کہ ہندؤوں میں تبلیغ شروع کر دی ہے اور ہندووں کو کلمہ پڑھا رہے ہیں۔چنانچہ ایک جماعت اسلامی کے مولوی صاحب ایک گاؤں میں جا پہنچے جس کا نام پھول پورہ ہے اور وہاں کی آدھے سے زیادہ آبادی احمدی ہو چکی تھی اللہ کے فضل سے اور نمازیں پڑھنے لگ گئے تھے اور درود بھیجتے تھے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اور بچے بھی کلمہ پڑھتے تھے نہایت ہی پیاری آواز میں۔تو مولوی صاحب وہاں پہنچے اور احمدیوں کے خلاف گندہ دینی شروع کر دی۔سٹیج لگایا اور اتنی گالیاں دیں کہ وہ حیران ہو کر تعجب سے دیکھتے رہے کہ ہوا کیا ہے مولوی صاحب کو ہم تو سمجھے تھے کہ اسلام کی باتیں بتا ئیں گے کچھ اپنے مذہب میں آنے کی دعوت دیں گے۔یہ تو ان کو گالیاں دے رہے ہے۔چنانچہ گاؤں کا نمبر دار تھا وہ بھی ہندو ہی تھا وہ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔اس نے کہا مولوی صاحب! پہلے میری ایک بات سُن لیں اسکے بعد باقی باتیں۔بات میں یہ کہنا چاہتا ہو کہ جب یہ لوگ یہاں آئے تھے ہمیں مسلمان بنانے کے لئے تو انہوں نے ہمیں بہت پیاری پیاری باتیں بتائی تھیں، اللہ کا ذکر کرتے تھے محبت سے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے، خدا کے پیار کی باتیں کرتے تھے، اپنے نبی کی پیار کی باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے خدا کا کوئی شریک نہیں اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اس کا بندہ اور رسول ہے اور سب نبیوں سے افضل ہے اور پھر اسلام کے اخلاق کی باتیں