سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 475 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 475

475 والسلام کے الفاظ ہی میں آپ کے سامنے پیش کروں گا۔پس اس اقتباس کے بعد میں اس خطبہ جمعہ کو ختم کروں گا۔فرمایا ” دوسرے لفظوں میں قرآن شریف میں اس کا نام استقامت رکھا ہے جیسا کہ وہ یہ دعا سکھلاتا ہے۔اھدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِيمَ صِراطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم ، یعنی ہمیں استقامت کی راہ پر قائم کر اور ان لوگوں کی راہ جنہوں نے تجھ سے انعام پایا۔ان لوگوں کی راہ استقامت کی راہ تھی جو انبیاء تھے اور ان لوگوں کی راہ استقامت کی راہ تھی جو صدیق تھے جو کامل وفا کے ساتھ اپنے انبیاء کے پیچھے چلتے رہے اور ان لوگوں کی راہ استقامت کی راہ پر تھے جو اس قافلے کے پیچھے پیچھے آرہے تھے مگر تھے اسی قافلے کا حصہ۔وہ آگے تو نہ بڑھ سکے مگر پہلوں کی قدموں کی خاک چومتے ہوئے اسی راہ پر انہوں نے اپنی زندگی ختم کی۔فرمایا یہ ہے استقامت کی راہ۔دعا کا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں یہ ہے " ہمیں استقامت کی راہ پر قائم کر ، ان لوگوں کی راہ جنہوں نے تجھ سے انعام پایا اور جن پر آسمانی دروازے کھلے۔واضح رہے کہ ہر ایک چیز کی وضع استقامت اس کی علت غائی پر نظر کر کے کبھی جاتی ہے"۔اب یہ بہت گہرا کلام ہے جسے لازماً سمجھائے بغیر آپ کو سمجھ نہیں آئے گی۔"ہر ایک چیز کی وضع استقامت اس کی علت غائی پر نظر رکھ کے سمجھی جاتی ہے "۔استقامت کے لئے پہلے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس چیز کا مقصد کیا تھا، اس کے بنانے کا مقصد کیا تھا، اس کی استقامت اس مقصد کے مطابق ڈھالی جائے گی یعنی اس کی استقامت کی صلاحیتیں جو اس کا مقصد تھا اس کے مطابق بنائی جانی ضروری ہیں۔انسان کے وجود کی علت غائی یہ ہے کہ نوع انسان خدا کے لئے پیدا کی گئی ہے۔پس انسانی وضع استقامت یہ ہے کہ جیسا کہ وہ اطاعت ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے ایسا ہی درحقیقت خدا کے لئے ہو جائے"۔پیدا کرنے کی غرض یہ تھی کہ ہمیشہ خدا کی عبادت کرے، ہمیشہ اس کی پیروی کرے۔اگر اس غرض کے مطابق وہ ہو جاتا ہے تو یہ اس کی استقامت ہے۔محض راہ کی تکلیفوں کو برداشت کرنا استقامت انام نہیں ہے۔یہ تشریح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہمیں بتلا رہی ہے کہ اگر ہم عبادت کی خاطر پیدا کئے گئے تھے تو ہماری استقامت کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا سارا وجود عبادت کی خاطر خاص ہو جائے اور کلیۂ اللہ کا ہو جائے۔اور جب وہ اپنے تمام قومی سے خدا کے لئے ہو جائے گا تو بلا شبہ اس پر انعام نازل ہوگا جس کو دوسرے لفظوں میں پاک زندگی کہہ سکتے ہیں۔صِراطَ الذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم ميں أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم کا ترجمہ ہے۔تو یقیناً اس پر انعام نازل ہوگا۔اب انعام کا عام معنی یہ لیا جا تا ہے کہ اس کوکئی قسم کی نعمتیں ملیں گی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ معنے نہیں فرما ر ہے " جس کو دوسرے لفظوں میں پاک