سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 474
474 جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما رہے ہیں۔فرماتے ہیں " اس جگہ شیطان سے مراد وہی لوگ ہیں جو بدی کی تعلیم دیتے ہیں "۔اب یہ خیال نہ گزرے کہ کوئی خیالی شیطان ہے جس سے ہر آدمی سمجھتا ہے میں بچا ہوا ہوں۔اس کے گردو پیش ، اس کے ماحول میں ، اس کو برے کاموں کی طرف بلانے والے وہ شیطان ہیں۔پس جس نے اپنی گردن خدا کی راہ میں دے رکھی ہو وہ ان کی باتیں کب سنے گا وہ ان کو مردود کر کے اپنی طرف سے ہٹادے گا ایسے لوگوں کی دوستی کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ سب کچھ تو خدا کے حضور انہوں نے پیش کر رکھا ہو اور اس میں سے حصہ مانگ رہے ہوں۔ایسے ہی لوگوں کے لئے اَعُوذُ باللهِ منَ الشيطن الرجیم کا کلام ہمیں سکھایا گیا کہ تلاوت سے پہلے ضرور پڑھ لیا کرو کیونکہ جب تلاوت کرتے ہوتو گویا خدا کے ہو جاتے ہو اور شیطان کوشش کرے گا کہ تمہارا کوئی حصہ بھی خدا کے فضل سے باہر رہ جائے اور یہ اسے ایک لے۔پس وہ لوگ زندہ آپ کے ارد گرد پھرتے ہیں ، آپ ان کو جانتے ہیں، دیکھتے ہیں، ان سے مراسم رکھتے ہیں جو خدا کی مرضی کے خلاف بھی آپ کو تعلیمیں دیتے ہیں، کہتے ہیں یہ جھوٹ بولوتو یہ فائدہ ہو جائے گا یہاں پیسہ لگاؤ خواہ پیسہ لگانا حرام ہو اس سے فائدہ پہنچے گا اس طرح رزق کماؤ۔یہ حقائق ہیں روز مرہ گزرنے والے حقائق ہیں، کوئی فرضی باتیں نہیں ہیں۔آپ ان کو دیکھتے ہیں اور پہچانتے نہیں۔پس جس نے خدا کی راہ میں اپنی گردن ڈالی ہو وہ ضرور پہچانے گا۔اس آئینہ میں اپنے آپ کو دیکھیں اور خود اپنا اپنا جائزہ لیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں، "جو شخص اپنے وجود کو خدا کے آگے رکھ دے نہ اس کی گردن اپنی رہی نہ اس کے پاؤں کے ناخن اپنے رہے کچھ بھی باقی نہ رہا۔اور اپنی زندگی اس کی راہوں میں وقف کر لے اور نیکی کرنے میں سرگرم ہو، سو وہ چشمہ قرب الہی سے اپنا اجر پائے گا۔ایسے شخص کو قرب الہی کے سرچشمے سے پلایا جائے گا جس کو ہم کوثر کہتے ہیں یہ وہی کوثر ہے اللہ کے قرب کا سر چشمہ، جس کو یہ سر چشمہ نصیب ہو جائے اسے ایک آب حیات اور آب بقامل گئی۔ایسے شخص پر کبھی موت وارد نہیں ہوا کرتی۔اور ان لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم ہے"۔جن پر سے موت اٹھالی گئی ہو، جن کو ہمیشہ کی بقاء کا وعدہ دے دیا گیا ہو یعنی خدا کی طرف سے ان لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔" یعنی جو شخص اپنے تمام قویٰ کو خدا کی راہ میں لگا دے اور خالص خدا کے لئے اس کا قول اور فعل اور حرکت اور سکون اور تمام زندگی ہو جائے اور حقیقی نیکی کے بجالانے میں سرگرم رہے تو اس کو خدا اپنے پاس سے اجر دے گا اور خوف اور حزن سے نجات بخشے گا۔یادر ہے کہ یہی اسلام کا لفظ کہ اس جگہ بیان ہوا ہے دوسرے لفظوں میں قرآن شریف میں اس کا نام استقامت رکھا ہے" میں نے عرض کیا تھا کہ پہلے جو لفظ استقامت گزرا ہے اس کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ