سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 422 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 422

422 اصل میں غریب دعوتوں کا ذکر ہے امراء کے مقابل پر غریبوں کا ذکر چلا ہے فرمایا ہے بدنصیب اور بد بخت ہیں وہ شادیاں جن میں بلانے والے غریبوں کو نہ بلائیں اور صرف امیروں کو بلائیں اور پھر جب غریب اپنی شادیوں پر ان کو بلائیں تو یہ وہاں نہ جائیں کہ یہ غریبوں کی شادی ہے اس لئے شادی بیاہ کے موقع پر میں نے جماعت کو نصیحت کی تھی اور اب وہ غالباً چھپ کر تمام دنیا میں پہنچ چکی ہوگی اس میں یہ بات بطور خاص داخل کی تھی کہ امیروں کو خاص طور پر غریبوں کی شادی میں پہنچنا چاہئے بلکہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اور ان کی بچیاں جو بھی اس بات کے لئے وقت نکال سکیں وقت سے پہلے وہاں جائیں اور ان کے گھروں کو صاف ستھرا کریں ان کو تیار کریں ان کی کمیاں دور کریں کھانا پکانے وغیرہ میں ان کی مدد کی جائے اور جو چیزیں وہ نہیں خرید سکتے وہ اپنی طرف سے خرید کر ان میں داخل کریں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر وہ جائیں اور ان کی غربت کو دیکھیں کیونکہ محض نصیحت سے انسان کا دل حقیقت میں پگھل نہیں سکتا لیکن آنکھیں جب دیکھتی ہیں ایک حالت کو تو پھر ضرور پکھاتا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے جو نصیحتیں فرمائی ہیں بہت ہی گہری، بہت ہی دیر پا اور دور کا اثر رکھنے والی ہیں کیونکہ حقیقت ہے کہ جب ایک غریب آپ کی شادیوں میں آئے گا اس کے کپڑوں کو آپ دیکھیں گے اور پھر اگر کوئی انسانیت ہو اور وہ عورتیں جو آپس میں پہلے یہ جھگڑ رہی تھیں کہ میرے کپڑے ایسے تھے اور تیرے کیسے ہو گئے جو گھر میں بچیاں شکوے کرتی ہیں کہ میری فلاں بہن کے تم نے اچھے بنادیے اور مجھے کیوں نسبتا خراب بنا کے دیے وغیرہ وغیرہ یہ جاہلانہ سطحی با تیں ہیں سب مٹ جائیں گی کیونکہ جب ایک غریب کو پرانے کپڑوں میں دیکھیں گی اگر انسانیت ہے تو دل پگھلیں گے اور شرمندگی کا احساس ہوگا اور اپنے آپ کو وہ لوگ مجرم سمجھیں گے کہ ہمارے اتنے تعلقات تو تھے واقفیت تو تھی کہ ہم نے ان کو بلایا ہے لیکن کیوں یہ خیال نہ کیا کہ ان کے لئے بھی اچھے کپڑے بنادیے جاتے۔اور پھر جب غریب کی شادی پر آپ جائیں گے تو پھر آپ کو محسوس ہوگا کہ کیا کیا مسائل ہیں شادیوں کے۔کہاں اپنے حال میں ڈوبے ہوئے امراء جن کے دماغ میں صرف یہ ہے کہ تین لاکھ سے کم میں شادی نہیں ہوتی پانچ لاکھ سے کم میں شادی نہیں ہوتی دس لاکھ سے کم میں شادی نہیں ہوتی کہاں وہ جو دو چار ہزار میں شادی کی کوشش کر رہے ہیں اس نے بچوں کے لئے بھی غریبانہ کچھ بنا کے دینا ہے جو مہمان آنے والے ہیں ان کے لئے بھی کچھ پیش کرنا ہے تو یہ مسائل سوائے اس کے حل نہیں ہو سکتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے آپ کے اخلاق سیکھے جائیں۔کسی دوسرے سے نہیں خود آپ سے آپ کے اخلاق سیکھے جائیں اور وہ یہ حدیثیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زبانی بھی اور آپ کے کردار کی زبانی بھی آپ کے اخلاق ہمارے سامنے رکھتی ہیں۔فرمایا شادی کی بدترین وہ مثال ہے کہ غریبوں کو نہ بلا ؤ اور جب غریب تمہیں بلائیں تو تم اگر نہ جاؤ گے تو خدا اور رسول کی نافرمانی ہوگی۔