سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 423 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 423

423 غلاموں سے سلوک پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اپنے غلاموں سے سلوک ، غلاموں سے مراد یہ ہے ادنیٰ غریب بندوں سے سلوک ایک ایسے معاشرے میں جس کے اخلاق آپ نے درست فرما دیئے تھے۔اس معاشرے میں بھی وہ ایک تعجب انگیز سلوک تھا حیرت سے نگاہیں اس پہ اٹھ رہی تھی اور اس سے میری مراد وہ واقعہ ہے جو ظاہر بن حرام کے ساتھ پیش آیا۔ظاہر بن حرام ایک دیہاتی تھا جو نہایت ہی بدصورت اور مکر وہ صورت اور اس کے علاوہ اس کے کپڑے بھی گندے، دیہاتی کھیتوں میں کام کرنے والے کے جسم میں سے پسینے کی بدبو بھی آتی تھی اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے بہت پیار تھا جب بھی آتا تھا کوئی تھوڑی سی سبزی، کوئی ایک گاؤں گا پھل تحفہ اٹھا کر لے آیا کرتا تھا۔ایک دفعہ وہ کھڑا تھا کہ اچانک اس نے دیکھا کہ کسی نے پیار سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے ہیں اور اس نے حیرت سے پوچھا اور اس نے اپنا جسم ساتھ رگڑنا شروع کیا پہچاننے کی غرض سے گویا پہچان پارہا ہے کہ کون ہے اور ساتھ ساتھ باتیں کرتا جاتا تھا کہ یہ ہو گا وہ ہو گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اسی طرح اپنے ہاتھوں سے اس کی آنکھیں بند کئے پاس کھڑے رہے اور وہ منہ سے بولا نہیں جسم رگڑ تا رہا گویا پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے اور مقابلہ پیار کا اظہار جس طرح بعض دفعہ آپ نے دیکھا ہو گا بچے ماؤں سے لپٹ کے رگڑتے ہیں اپنے آپ کو۔بعض دفعہ بلی کے بچوں کو آپ نے پیار سے دیکھا ہوگا بستر میں گھس کے وہ اپنے بدن کو خوب رگڑتے ہیں پیار سے۔یہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ساتھ شروع کیا ہوا تھا اور آپ خاموش کھڑے اس کے نخرے برداشت کرتے رہے یہاں تک کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہ اعلان کیا کہ ہے کوئی غلام خرید نے والا۔میں ایک غلام بیچتا ہوں۔تب اس نے آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے عجز کے ساتھ یہ کہا یا رسول اللہ ! اس بدصورت، بے قیمت انسان کو کون خریدے گا۔آپ نے فرمایا دیکھو میرا خدا، آسمان کا خدا تمہارا خریدار ہے۔محمد بیچ رہا ہے یہ غلام۔ان بندوں کو کیا پتہ کہ تمہاری کیا قیمت ہے میرے اللہ کے نزدیک تمہاری بہت قیمت ہے اور پھر اس نے بتایا۔یا رسول اللہ یہ کیسے ممکن تھا کہ میں آپ کو پہچان نہ لیتا۔مجھ سے یہ پیار کا سلوک اور کر کون سکتا تھا۔ایک ہی تھا اور وہ محمد مصطفی تھے۔پس میں جانتا تھا اور میں سوچتا تھا کہ اس سے بہتر اور کون سا موقع مجھے میسر آئے گا کہ اپنے بدن کو آپ کے پاک بدن سے رگڑوں۔پس ایک طرف غربت تھی جس میں سے بدبو بھی اٹھ رہی تھی جو بدصورتی کا مظہر تھی ہر دنیا کے لحاظ سے برائی اس میں پائی جاتی تھی ایک طرف حسن و خوبی کا وہ پیکر کہ اس سا کوئی پیکر کبھی ایسا حسین پیدا نہیں ہوا تھا یہ امتزاج تھا اعلیٰ اور ادنی کا۔اس طرح خدائی بندوں سے ملتی ہے۔اس طرح خدا کے مظہر دنیا میں خدا کے پیار اور محبت کو خدا کے بندوں میں منتقل کیا کرتے ہیں۔آپ ایسا ہونے کی کوشش کریں اگر اپنے اخلاق آپ