سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 421
421 میں زندہ رہا کرتی ہے۔نیکی وہی زندہ رہتی ہے جس کے ساتھ ایسا ذاتی تعلق ہو کہ نیکی کے بعد لطف آئے۔پس ہرانسان اس پہلو سے خود غرض ہے۔وہ غرض کے بغیر کوئی چیز نہ اختیار کرسکتا ہے نہ کسی چیز کو ہمیشہ کے لئے اپنا سکتا ہے۔وقتی طور پر بعض مجبوریوں کے پیش نظر ، بعض اصولوں کی خاطر ایک انسان طبیعت کے خلاف کام بھی کر لیتا ہے مگر ہمیشہ وہ نیکیاں اس کے ساتھ نہیں رہتیں جب تک اس کے دل کا جزو نہ بن جائیں جب تک ان نیکیوں سے پیار نہ پیدا ہو جائے اور ان نیکیوں کے کرنے سے دلوں میں ایک طبعی بشاشت پیدا نہ ہو۔پس یہ صحابی بڑے ہی زیرک انسان تھے جنہوں نے سیرت کو بیان کیا ہے اور گہرائی سے بیان کیا ہے۔محسوس کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جب خدمت کرتے تھے تو کوئی طبیعت پر بوجھ نہیں ہوتا تھا بلکہ خوشی کا احساس نمایاں تھا۔اس سے لطف آ رہا ہے کہ آہا کتنا اچھا موقع ملا میں اپنے غریب بھائی کے کام آ رہا ہوں۔شادی کی بدترین دعوت پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے متعلق حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ شادی کی بدترین دعوت وہ ہے جس میں امراء کو بلایا جائے اور غرباء کو چھوڑ دیا جائے۔اب ہمارے ملک میں بھی میں نے دیکھا ہے کہ دن بدن یعنی پاکستان کی بات میں کر رہا ہوں اور اس طرح اور بھی بہت سے ملکوں میں یہ رواج ہے اور یورپ میں تو اس بات کا تصور ہی نہیں کہ اپنے تعلقات کے دائرے سے ہٹ کر بھی کسی کو دعوتوں میں بلایا جائے مگر ہمارے ملکوں میں بھی یعنی نسبتا غریب ملکوں میں یہ رواج اب زور پکڑ رہا ہے کہ امراء کی دعوتیں اتنی اونچی سطح پر اٹھتی ہیں کہ وہاں کسی غریب کو چہرہ دکھانے کی بھی مجال نہیں۔اور اگر غریب رشتہ دار بھی ہوں تو ان سے انحراف کیا جاتا ہے کہ کہیں ہمارے لئے شرمندگی کا موجب نہ بنیں اور امیروں کی دعوتیں الگ ہیں ان کے اندر ہی عیش وعشرت کے الگ ہیں اور غریبوں کی دعوتیں الگ ہیں غریبوں کی دعوتوں میں امیر نہیں جاتے اور امیروں کی دعوت میں غریبوں کو بلایا نہیں جاتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے ہیں " شادی کی بدترین دعوت " اور اکثر ایسا شادی بیاہ کے موقع پر ہوتا ہے فرمایا شادی کی بدترین دعوت وہ ہے جس میں امراء کو تو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور اس کے ساتھ ایک عجیب بات فرمائی اور " جو شادی کی دعوت کو قبول نہ کرے وہ اللہ اور اس کے رسول کا نافرمان ہے " اب یہ ایک وسیع مضمون کا ایک ٹکڑا ہے اور اگر اس کو پہلے مضمون کے تعلق کے ساتھ جوڑ کر نہ سمجھیں تو بات سمجھ میں نہیں آئے گی۔بیسیوں مرتبہ آپ نے بھی شادی کی دعوت کو کسی مجبوری سے قبول نہیں کیا ہوگا اور جہاں تک اپنے قریبیوں ، دوستوں، عزیزوں کی شادی کی دعوت کا تعلق ہے وہ تو آپ شوق سے جاتے ہیں انتظار کرتے ہیں کہ آپ کو دعوت نامہ آئے بعض دفعہ نہ بھی آئے تو چلے جاتے ہیں۔پھر کن دعوتوں کا ذکر ہے یہ