سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 388 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 388

388 سے فارغ ہو جاؤ گے اور پھر ذکر کرو گے تو وہ بہت بڑی بات ہے۔قرآن کریم کی جو آیات میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی ہیں ان میں بھی یہی مضمون ہے کہ ذکر کا تعلق نماز سے ہے۔حضرت موسیٰ علیہ الصلواۃ والسلام کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَى ) تجھے میں نے چن لیا ہے۔پس غور سے اس بات کو سن جو تجھ پر وحی کی جارہی ہے۔لا إِنَّنِي أَنَا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى یقیناً میں ہی وہ خدا ہوں جو ایک ہی ہے لَا إِلَهَ إِلَّا آنا میرے سوا اور کوئی خدا نہیں کوئی معبود نہیں ” فَاعْبُدُني “ پس میری عبادت کر۔وَاَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِی اور نماز کو قائم کر۔میری عبادت کر اور نماز کو میرے ذکر کے لئے قائم کر۔پس عبادت کا تو مقصد ہی ذکر کا قیام ہے اور اگر ذکر نہ ہو تو عبادت ایک خالی کھوکھلا برتن رہ جاتا ہے۔پس وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ کا تعلق قیام صلوۃ سے ہے اور جملہ عبادات سے ہے لیکن ذکر الہی نماز میں تب نصیب ہو گا اگر پہلے اپنے دل کو فحشاء اور منکر سے پاک کر لیں۔یہ وہ مضمون ہے جس کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور اسے خوب غور سے سمجھ کر پھر نماز کو قائم کرنا چاہئے۔ذکر الہی کیسے قائم ہوتا ہے اب آپ دیکھیں کہ اگر نماز پڑھتے وقت ایک انسان کا قلبی تعلق بے ہودہ باتوں سے جڑا رہا ہو۔وہ کہیں سے دامن چھڑا کر آیا ہے لیکن دل وہیں انکا ہوا ہے تو عبادت میں ذکر الہی کیسے قائم ہوسکتا ہے۔چند فقرے منہ سے وہ نکالے گا تو پھر ذہن ان چیزوں کی طرف لوٹ جائے گا جہاں دل اٹکا پڑا ہے۔کہیں پیاروں کی یاد آئے گی، کہیں تجارت کے مسائل اس کے ذہن کو اپنی طرف کھینچ لیں گے، کہیں کوئی ٹیلی ویژن کے پروگرام اس کو اپنی طرف مائل کر لیں گے، کہیں کوئی کھیلیں یا اور دلچسپیوں کے مشاغل، سیر و تفریح کی باتیں اسے اپنی طرف مائل کر لیں گی اور کھینچ لیں گی۔تو ذکر الہی کا بیچارے کو کہاں سے موقع ملے گا۔ذکر الہی کا مضمون تو یہ ہے کہ ہر حالت میں انسان کا دماغ اس حالت سے چھلانگ لگا کر اللہ کے ذکر کی طرف مائل ہو جائے اور قرآن کریم نے ذکر کا مضمون اسی طرح بیان فرمایا ہے۔الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيْمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ (ال عمران : 192) وہ زمین و آسمان کو دیکھتے ہیں اس کی سیر کرتے ہیں اس کے حسن سے لذت یاب ہوتے ہیں لیکن