سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 389
389 اس طرح کہ ذہن ان چیزوں کو دیکھ کر خدا کی طرف دوڑتا ہے اور دل اللہ کی طرف اچھلتا ہے اور ہر بات سے ان کو اللہ یاد آنے لگ جاتا ہے۔پھر راتوں کو سوتے ہوؤں کا نقشہ یہ کھینچا۔تَتَجَافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا (السجدہ : 17 ) کہ ان کے پہلو نیند کی لذتوں کے باوجود بستروں سے الگ ہو جاتے ہیں۔کس حالت میں الگ ہوتے ہیں يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا اپنے رب کو وہ پکار رہے ہوتے ہیں ، خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔تو ذکر الہی ساری زندگی پر حاوی ضرور ہے لیکن مراد یہ ہے کہ زندگی کا ہر شغل، زندگی کا ہر مشغلہ، زندگی کی ہر دلچسپی اللہ کی طرف ذہن کو مائل کر دے اور دل اس طرح اس طرف اچھلے جس طرح بچہ ماں کی چھاتیوں کی طرف دودھ کے لئے اچھلتا ہے لیکن یہ مراد نہیں ہے کہ یہاں ذکر ختم ہو جائے گا اور یہی ذکر کافی ہے۔یہ ساری چیزیں نماز کی تیاری کے لئے ہیں اگر یہ ماحول قائم ہوگا تو پھر نماز میں ذکر ہو سکے گا ورنہ نہیں ہوگا اور نماز میں یوں لگے گا کہ عارضی طور پر ہم ان دنیا کی لذتوں سے چھٹی لے کر آئے ہیں اور یہاں سلام پھیرا وہاں اللہ میاں کو سلام اور واپس دنیا میں مائل۔لیکن خدا نے جس دنیا کا نقشہ کھینچا ہے وہاں دنیا کا ہر مشغلہ خدا کی طرف پھینک رہا ہے، انسان کو اس کی طرف کھینچ رہا ہے، اس کی طرف منتقل کر رہا ہے۔ذکر الہی کے معنی ذکر الہی سے متعلق جو مختلف صوفیا نے سمجھا، یا کہا، یا اس کے مطابق تعلیم دی اس کا مختصر ذکر کرنے کے بعد پھر میں حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے قرآن میں بیان فرمودہ ذکر کی تعریف کروں گا اور آپ کو سمجھاؤں گا کہ حقیقی ذکر کیا ہے؟ لیکن اس سے پہلے اہل لغت نے جو قرآن کی مختلف آیات کو دیکھ کر ذکر کے معانی بیان کئے ہیں وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ذکر کے معنی ہیں شہرت ، نماز، دعا، قرآن کی تلاوت ، تسبیح، شکر ، اطاعت، اللہ کی حمد و ثنا ، شرف اور عزت۔جیسا کہ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ اِنَّهُ لَذِكْرُ نَكَ وَلِقَوْمِكَ (الزخرف: 45) دیکھ یہ باتیں تیری قوم کی عزت و شرف کے لئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ تو ہیں مختلف تراجم جو ذ کر کے مختلف محل اور موقع کے مطابق کئے گئے ہیں لیکن اس سے بات پوری طرح سمجھ نہیں آسکتی۔صرف ترجمے سننے سے تو آپ کو کچھ مضمون سمجھ نہیں آئے گا۔اب میں آپ کے سامنے پہلے صوفیاء اور دیگر بزرگان امت کے حوالے سے ذکر کے اس مضمون کو پیش کرتا ہوں جو انہوں نے سمجھا اور اس پر عمل کیا اور اس پر لوگوں کو عمل کی طرف بلایا لیکن اس سے پہلے میں آپ کو بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ بہت سے ایسے ذکر کرنے والے فرقے پیدا ہوئے جو ذ کر کے مفہوم کو پوری