سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 387 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 387

387 اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ان کو بھی دعا میں یا درکھیں۔نماز کے فوائد جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں بیان کیا تھا کہ جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” وَلَذِكْرُ : اللهِ اَكْبَرُ (ط : 46) کہ اللہ کا ذکر اکبر ہے۔اس سے بعض صوفیاء نے اور بعض مفسرین نے یہ مطلب بھی نکالا ہے کہ نماز کے مقابل پر اللہ کا ذکر جو ساری زندگی پر پھیلا پڑا ہو وہ اکبر ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے۔یہ آیت میں آپ کے سامنے دوبارہ پڑھ کر سناتا ہوں اور اس کی ترتیب سے آپ خود ہی سمجھ جائیں یا سمجھ جانا چاہئے کہ یہاں نماز کے ذکر کا تذکرہ چل رہا ہے نماز سے باہر کا نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتُبِ وَاَقِمِ الصَّلوةَ ( : 46) اس میں سے پڑھ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ جو تجھ پر وحی کی جا رہی ہے مِنَ الْكِتُبِ وَاَقِمِ الصَّلوةَ اور سب سے اہم مضمون کتاب میں نماز کے قیام کا مضمون ہے۔اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ۔نماز کے فوائد میں سے یہ دو فوائد ہیں کہ نماز فحشاء سے روکتی ہے اور منکر سے روکتی ہے۔اب یہ دو منفی صفات ہیں جن کا ذکر ہے اگر یہیں بات ختم سمجھی جائے اور نماز کے علاوہ کسی اور بات کا ذکر شروع ہو جائے تو گویا نماز کا مقصد صرف بعض چیزوں سے روکنا ہے بعض فوائد عطا کرنا نہیں ہے۔نماز تمہیں ذکر عطاء کرتی ہے یہ غلط نہی پیدا ہونی ہی نہیں چاہئے کیونکہ قرآن کے بیان کا انداز یہ ہے کہ نماز فحشاء سے روکتی ہمنکر سے روکتی ہے۔وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ لیکن سب سے بڑا فائدہ نماز کا یہ ہے کہ تمہیں ذکر عطا کرتی ہے اور ذکر ان سب چیزوں سے بڑا ہے۔اس میں ایسی ترتیب ہے جس کا تعلق اسی مضمون سے ہے جو میں پہلے بیان کرتا آیا ہوں یعنی پہلے تبتل الی اللہ ہوتا ہے پھر ذکر چلتا ہے۔فحشاء کے ساتھ اگر تعلق جڑا رہے اور ناپسندیدہ باتیں دل میں جمی رہیں تو پھر ذکر اللہ کا کیا سوال پیدا ہو گا ؟ پس فرمایا کہ نماز پہلے تمہیں پاک صاف کرتی ہے تمہارے زنگ دھوتی ہے جس طرح قلعی گر کو برتن دیئے جاتے ہیں تو پہلے وہ تیزاب سے اس کے گند اُتارتا ہے اور جب وہ اس قابل ہو جائیں کہ قلعی کو قبول کریں تو پھر قلعی کا رنگ جمایا جاتا ہے۔پس یہ قرآن کریم کا طر ز بیان ہے اس سے یہ معنی نکالنا کہ گویا نماز کے ذکر کو چھوڑ کر نماز سے باہر کے ذکر کی بات شروع ہو گئی ہے اور وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَر کہہ کر بیان فرمایا کہ نماز تو بری باتوں سے روکے گی لیکن جب نماز