سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 318 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 318

318 جماعت از خود پانی کی طرح بہہ رہا ہے خاموشی سے جاری وساری ہے۔وہ نظام کی خوبیاں جو آپ جماعت جرمنی میں ملاحظہ کر رہے ہیں ، جماعت یو کے میں ملاحظہ کر رہے ہیں، یونائیٹڈ سٹیٹس میں ملاحظہ کر رہے ہیں جو کینیڈا میں ملاحظہ کر رہے ہیں، جو پاکستان اور بنگلہ دیش اور برما اور دیگر ممالک میں اور جاپان وغیرہ میں ملاحظہ کر رہے ہیں۔یہ محض اللہ کا احسان ہے، خدا کا فضل ہے، دعاؤں کے نتیجے میں کاموں کو آسان کر کے جاری فرما دیتا ہے اور جاری کام یوں لگتا ہے کہ از خود چل رہے ہیں حالانکہ خدا کے فرشتے اُن کے پیچھے لگے ہوتے ہیں، خدا کے فرشتے اُن کو جاری وساری رکھنے کے ذمہ دار بن جاتے ہیں۔پس اس طرح اگر آپ دعا ئیں کر کے ہسلیقے سے اپنے کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے درخت وجود کو بے انتہا برکتوں والے پھل لگیں گے۔ہر سال کثرت کے ساتھ آپ میں اللہ کا تقویٰ رکھنے والے ایسے بزرگ اولیاء پیدا ہونے لگیں گے جن کی دعائیں جماعت کے لئے مزید مددگار بنیں گی ، جن کے وجود خدا نما ہو جائیں گے۔جن کو دیکھنا صداقت کو قبول کرنے کے مترادف ہوگا۔اُن کی نیکی کی برکت سے آپ کو بہت سے پھل لگیں گے جن سے آج آپ محروم ہیں۔مہینے میں ایک آدمی کو بہتر انسان بنا دیں تو آپ نے نجات پالی پس سارا زور اس بات پر دیں کہ متقی اللہ سے تعلق رکھنے والے انسان پیدا کریں اور یہ پیدا کرنا بہت محنت چاہتا ہے، بہت صبر چاہتا ہے، سلیقہ چاہتا ہے، دعاؤں کا تقاضا کرتا ہے، محنت کے ساتھ ایک ایک کر کے کام کرنا شروع کریں اگر آپ مہینے میں ایک آدمی کو بہتر انسان بنا دیتے ہیں ،اگر اُس کی کمزوریاں دور کرتے ہیں، اُس کے لئے خیرات اور نیکیوں کی دعائیں کرتے ہیں اور ہر کمزوری کے بجائے ایک خوبی اُس کے دل میں سجا دیتے ہیں۔تو سمجھیں کہ آپ نے نجات پالی۔آپ خدا کے حضور نجات یافتہ شمار کئے جائیں گے لیکن ایک نہیں ، دو نہیں آپ نے تو لاکھوں کو تبدیل کرنا ہے ، اُن لاکھوں نے پھر کروڑوں ، اربوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں۔یہ وہ بڑا کام ہے جو اس صدی کے آغاز میں ہم نے اس سلیقے سے کرنا ہے کہ آنے والی صدی ہمیں نمونے کے طور پر دیکھے اور ہمارے بتائے ہوئے رستوں پر ہماری چال کے ساتھ ، ہماری اداؤں کے ساتھ چلے اور ہر چلنے والا عملاً آپ کو دعائیں دے رہا ہو۔جنہوں نے پہلے آکر ان کو چلنے کے سلیقے سکھائے۔کارکنان کو درود پڑھنے کی تلقین یہی وہ مضمون ہے جو درود شریف میں دراصل کار فرما ہے۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جب بھی ہم دل کی گہرائیوں سے درود پڑھتے ہیں تو اس درود کا تعلق کسی ایسی نیکی سے ہوتا ہے جو