سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 319 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 319

319 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے نتیجے میں آپ کو عطا ہوتی ہے۔اگر اس درود کا تعلق کسی نیکی سے نہ ہو تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ درود محض منہ کی باتیں ہیں کوئی حقیقت نہیں۔سارا دن کوئی درود رشتا رہے اگر جذ بہ احسان کے ساتھ یہ درود زبان سے نہ اٹھے اگر اس کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایسے احسان کے ساتھ نہ ہو جو حسن بن کر اُس کی ذات میں جاری ہو گیا ہو۔تو یہ درود ایک فرضی بات ہے اور یہی وہ درود ہے جو آپ کے لئے آگے آنے والی نسلیں پڑھا کریں گی اگر آپ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات پر نظر رکھتے ہوئے اپنی ذات پر اُن کو جاری کرتے ہوئے محسوس کرتے ہوئے یہ دیکھ کر کہ اس ازلی و ابدی آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہمیں بطور احسان ہمیں نیکی ملی ہے اگر وہ نہ ہوتے تو ہم میں یہ بات نہ ہوتی۔پھر درود پڑھیں گے تو وہ درود ایسا درود ہوگا جو آپ کی ذات میں آئندہ جاری ہو جائے گا۔آپ کی نیکیاں اسی طرح اگلی آنے والی نسلیں دیکھیں گی اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل جو پاک تبدیلیاں کرنے کی صلاحیتیں آپ کو عطا ہوئی ہیں۔تبدیلیاں جب جہاں بھی کہیں بھی دنیا میں واقع ہوں گی۔وہ تبدیلیاں اُن تبدیلیوں کا فیض پانے والا خواہ زبان سے کہے یا نہ کہے۔عملاً اُس کے اعمال آپ پر درود بھیج رہے ہوں گے۔دعاؤں سے بوجھل کام بھی آسان ہو جاتے ہیں پس یہ وہ کام ہیں جو ہم نے کرنے ہیں بوجھل سہی ، بھاری سہی مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر دعائیں کرتے ہوئے عجز وانکساری کے ساتھ ، حوصلہ اور توکل رکھتے ہوئے بڑے سے بڑے کام پر بھی آپ ہاتھ ڈالیں گے تو آسان کر دیا جائے گا۔حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے غلاموں کو بتایا تھا تم میرے کاموں پر تعجب کرتے ہومگر میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر رائی کے برابر بھی تم میں ایمان ہو تم پہاڑوں کو اپنی طرف بلاؤ گے تو دیکھو گے پہاڑ تمہاری طرف چلے آتے ہیں۔مسیح کی قوم اُن پہاڑوں کو اپنی طرف بلانے میں ناکام رہی۔اے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامو! اے عاشق محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامو! تم آپ کے بھیجے ہوئے آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق آئے ہوئے مسیح کی غلامی کا دعوی کرتے ہو خدا کی قسم اگر تم تو کل رکھتے ہوئے اور ایمان کے جذبے کے ساتھ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہوئے پہاڑوں کو اپنی طرف بلاؤ گے تو ضرور پہاڑ تمہاری طرف آئیں گے۔تم دنیا میں عظیم انقلاب بر پا کر سکتے ہو تم بڑی سی بڑی روکوں کو خاک کی طرح رستوں سے اڑا سکتے ہو لیکن اپنی صلاحیتوں کو پہچانو۔جانو کہ تم کون ہو؟ کن سے وابستگی سے تم کو طاقت نصیب ہوگی۔کس سلیقے اور حکمت کے ساتھ، مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنے ہوں گے ایسا کرو گے تو تمہارے کام آسان ہو جائیں گے، تمہارے کام بو جھل محسوس نہیں ہوں گے۔ایسے کام جو دعا کے ساتھ ، تو کل کے ساتھ، اللہ اور رسول کی محبت میں کئے جاتے ہیں، وہ بوجھ نہیں بنا کرتے ، بوجھ محسوس ہوتے ہیں اُن