سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 317 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 317

317 سے دعا کرتا ہوں کہ تو مجھے تو فیق بخش مجھے ہرگز یہ طاقت نہیں لیکن تو کل رکھتا ہوں، یقین کرتا ہوں اگر تو نے مجھے پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے تو درست ڈالی ہوگی لیکن میں اپنے نفس پر خود غالب نہیں آسکا، میں خود کمزور ہوں، مجھے خود اپنی صلاحیتوں کو تیرے حضور مسخر کرنے کا طریقہ معلوم نہیں۔تو میری نصرت فرما اپنی جناب سے تو سلطانِ نصیر عطا فرما۔پس ساری جماعت کو اس طرح بیدار کر دے، اِس طرح ولولے اُن کے دلوں میں پیدا کر دے کہ ارتعاش پیدا ہو جائے۔یہ عظیم پانی جو سب دنیا میں جگہ جگہ جھیلوں کی صورت میں موجود ہے، بحرمواج کی صورت میں موجیں مارنے لگے اور عظیم انقلاب دنیا میں برپا کرنے کا موجب بنے۔اس وقت انقلابات کے آثار بڑی تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ عنقریب انشاء اللہ لاکھوں کی تعداد میں ہر سال جماعت میں لوگ داخل ہوں گے ، اُن کو سنبھالنا کیسے ہے؟ اُن کی تربیتی ضرورتوں کو کیسے پورا کرنا ہے؟ اُن کو باخدا کیسے بنانا ہے؟ یہ وہ کام ہیں جو سب سے زیادہ جماعت احمدیہ کے لئے چیلنج بنے ہوئے ہیں اور جب تک ہر فرد کی ہم تربیت نہ کریں اُس وقت تک اس ذمہ داری کو ادا نہیں کر سکتے۔ہماری تعداد اتنی تھوڑی ہے کہ ایک ایک آدمی کے سپرد آنے والوں میں سے اگر سوسو بھی کئے جائیں تب بھی یہ نسبت شائد کم ہو اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔پس آنے والوں کی تربیت کے لئے اپنے نفوس کو تیار کریں، اپنے گھر صاف کریں، اپنے گھروں کو صفات الہی اور ذکر الہی سے سجائیں اور ہر شخص اپنا جائزہ لے کہ مجھ پر جو ذمہ داریاں عائد ہونے والی ہیں جن آنے والوں کو میں نے سنبھالنا ہے، جن کی میں نے تربیت کرنی ہے۔جن کو آگے نشو ونما کے طریق سکھانے ہیں، جن کو بڑھنا، پھولنا اور پھلنا بتانا ہے کہ کیسے ہوا کرتا ہے؟ مجھے اگر یہ باتیں معلوم نہیں ہوں گی تو یہ میں کیسے کروں گا ؟ اپنے گھر پر نظر رکھے، اُن نسلوں پر نظر رکھے، جو وہ آگے بھیجنے والا ہے تا کہ آئندہ نسلوں کی ضرورتیں بھی اسی گھر سے پوری ہوں یہ وہ کام ہیں جن کا تصور کر کے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ وہ کام ہے جس میں مجالس نے للہی سلطان نصیر بن کر میری مدد کرنی ہے اور ساری مجالس دراصل جماعت ہی ہے۔اگر جماعت من حیث الجماعت اُن ذمہ داریوں کو پورا کرے جن کی طرف میں نے نشاندہی کی ہے۔اس سلیقے سے کام کریں جس کا میں نے تذکرہ کیا ہے تو وہ کام جو آپ کو مشکل دکھائی دیتے ہیں۔آسان ہونے شروع ہو جائیں گے، دن بدن آسان سے آسان تر ہوتے چلے جائیں گے میں نے بار ہا تجربہ کیا ہے کہ ایک کام جوا چانک لگتا ہے کہ سر پر پہاڑ آپڑا ہے اور ایک نہیں دو تین مختلف سمتوں سے بعض پہاڑ لگتے ہیں، سر پر آپڑنے کے لئے تیار۔جب دعا کرتا ہوں اور عاجزی سے خدا کے حضور اپنے آپ کو پیش کر دیتا ہوں تو وہ سارے پہاڑ روئی کے دھنکے ہوئے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جن کا کوئی وزن نہیں۔خود بخود ہلکے ہو جاتے ہیں اللہ کے فرشتے ان کو اٹھاتے ہیں اور سارے کام سلیقے سے خود بخود ہونے لگتے ہیں۔ساری دنیا میں جو نظام