سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 154 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 154

154 قوموں کی تعمیر ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں بہت بڑے بڑے واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔وسعت حوصلہ - تیسری چیز وسعت حوصلہ ہے۔بچپن ہی سے اپنی اولاد کو یہ سکھانا چاہئے کہ اگر تھوڑی سی تمہیں کسی نے کوئی بات کہی ہے یا کچھ تمہارا نقصان ہو گیا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں اپنا حوصلہ بلند رکھو اور یہ حوصلہ کی تعلیم بھی زبان سے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر اپنے عمل سے دی جاتی ہے۔بعض بچوں سے نقصان ہو جاتے ہیں، کوئی گھر کا برتن ٹوٹ گیا کوئی سیاہی کی دوات گر گئی ، کھانا کھاتے ہوئے پانی کا گلاس الٹ گیا اور ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر میں نے دیکھا ہے کہ بعض ماں باپ برافروختہ ہو کر بچوں کے اوپر برس پڑتے ہیں، ان کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں، چیر میں مارتے ہیں اور کئی طرح کی سزائیں دیتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ جن قوموں میں یا جن ملکوں میں ابھی تک ان کا ایک طبقہ یہ توفیق رکھتا ہے کہ وہ نوکر رکھے وہاں نوکروں کے ساتھ تو اس سے بھی بہت بڑھ کر بد سلوکیاں ہوتی ہیں۔تو ان جگہوں میں جہاں نوکروں سے بدسلوکیاں ہو رہی ہوں ، ان گھروں میں جہاں بچوں سے بدسلوکیاں ہو رہی ہوں وہاں آئندہ قوم میں بڑا حوصلہ پیدا نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو اپنے بچوں کی تربیت کی وہ محض کلام کے ذریعے نہیں کی بلکہ اعلیٰ اخلاق کے اظہار کے ذریعے کی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ جب بچے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک بہت ہی قیمتی مقالہ جو آپ نے تحریر فرمایا تھا اور اس کو طباعت کے لئے تیار فرمایا تھا وہ آپ نے کھیل کھیل میں جلا دیا اور سارا گھر ڈرا بیٹھا تھا کہ اب پتا نہیں کیا ہو گا اور کیسی سزا ملے گی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو علم ہوا تو آپ نے فرمایا کوئی بات نہیں خدا اور توفیق دے دے گا۔حوصلہ اپنے عمل سے پیدا کیا جاتا ہے اور وہ ماں باپ جن کے دل میں حوصلے نہ ہوں وہ اپنے بچوں میں حوصلے پیدا نہیں کر سکتے اور نرم گفتاری کا بھی حو صلے سے بڑا گہرا تعلق ہے۔چھوٹے حوصلے ہمیشہ بدتمیز زبان پیدا کرتے ہیں۔بڑے حوصلوں سے زبان میں بھی تحمل پیدا ہوتا ہے اور زبان کا معیار بھی بلند ہوتا ہے۔پس محض زبان میں نرمی پیدا کرنا کافی نہیں جب تک اس کے ساتھ حوصلہ بلند نہ کیا جائے اور وسیع حوصلگی جماعت کے لئے آئندہ بہت ہی کام آنے والی چیز ہے۔اس کے غیر معمولی فوائد ہمیں اندرونی طور پر بھی اور بیرونی طور پر بھی نصیب ہو سکتے ہیں لیکن وسیع حوصلگی کا یہ مطلب نہیں کہ ہر نقصان کو برداشت کیا جائے اور نقصان کی پرواہ نہ کی جائے۔یہ ایک فرق ہے جو میں کھول کر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔اس کے دائرے کے اندر اس کو سمجھ کر ان دونوں باتوں کے درمیان توازن کرنا پڑے گا۔نقصان ایک بری چیز ہے۔اگر نقصان کا رجحان بچوں میں پیدا ہو تو ان کو سمجھانا اور عقل دینا اور یہ بات ان کے ذہن نشین کرنا بہت ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو چیز میں پیدا فرمائی ہیں وہ ہمارے فائدے کے لئے ہیں اور ہمیں چاہئے کہ چھوٹی سی