سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 153
153 تکلیف دے رہی ہوتی ہیں اور ان کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ایسے اگر مرد ہوں تو ان کی عورتیں بے چاری ہمیشہ فلموں کا نشانہ بنی رہتی ہیں اگر عور تیں ہوں تو ان مردوں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔یہ بات بھی ایسی ہے جس کو بچپن سے ہی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔گھر میں بچے جب ایک دوسرے سے کلام کرتے ہیں اگر وہ آپس میں ادب اور محبت سے کلام نہ کریں۔اگر چھوٹی چھوٹی بات پر تو تو میں میں ہو اور جھگڑے شروع ہو جائیں تو آپ یقین جانیں کہ آپ ایک گندی نسل پیچھے چھوڑ کر جانے والے ہیں۔ایک ایسی نسل پیدا کر رہے ہیں جو آئندہ زمانوں میں قوم کو تکلیفوں اور دکھوں سے بھر دے گی اور آپ ذمہ دار ہیں اس بات کے۔جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچوں نے ایک دوسرے سے زیادتیاں کیں ، سختیاں کیں ، بدتمیزیاں کیں اور آپ نے ان کو ادب سکھانے کی طرف کوئی توجہ نہ کی اور صرف یہی نہیں بلکہ ایسے بچے پھر ماں باپ سے بھی بدتمیز ہوتے چلے جاتے ہیں اور ماں باپ جن کے جلد بچوں کی تعزیر کے لئے ہاتھ اٹھتے ہیں ان کے بچوں کے پھر ان پر ہاتھ اٹھنے لگتے ہیں۔اس روز مرہ کے حسن سلوک اور ادب کی طرف غیر معمولی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور یہ بھی گھروں میں بچپن ہی میں اگر تربیت دے دی جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی آسانی کے ساتھ یہ کام ہو سکتے ہیں لیکن جب یہ اخلاق زندگی کا جزو بن چکے ہوں، جب ایسے بچے بڑے ہو جائیں تو پھر آپ دیکھیں گے کہ سکول میں جائیں تو کلاسوں میں یہ بچے بدتمیزی کے مظاہرے کرتے شور ڈالتے ایک دوسرے کو تکلیفیں پہنچاتے اور اساتذہ کے لئے ہمیشہ سر دردی بنے رہتے ہیں۔یہی بچے جب اطفال الاحمدیہ کے سپر دہوں یا لجنات کے سپر د بچیوں کے طور پر ہوں تو وہاں ایک مصیبت کھڑی کر دیتے ہیں۔ان بچوں کی تربیت کرنا بہت مشکل کام ہے اور ہم نے جو تربیت کے بڑے بڑے کام کرنے ہیں وہ ہو ہی نہیں سکتے اگر ابتدائی طور پر یہ مادہ تیار نہ مادہ تیار ہو تو پھر اس کے اوپر جتنا کام آپ کرنا چاہیں، جتنا سجانا چاہیں اتنا سجا سکتے ہیں لیکن وہ مٹی ہی نرم نہ ہو اور اس کے اندر ڈھلنے کی طاقت نہ ہو تو پھر کیسا بڑا صناع ہی کیوں نہ ہو وہ اس مٹی کو خوبصورت شکلوں میں تبدیل نہیں کر سکتا۔پس اس پہلو سے نرم کلامی ادب اور احترام کے ساتھ ایک دوسرے سے سلوک کرنا یہ بہت ہی ضروری ہے۔بڑے بڑے خطرناک جھگڑے اس صورتحال کی طرف توجہ نہ دینے کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اور چونکہ مجھ تک ساری دنیا سے مختلف نزاع کبھی بالواسطہ کبھی بلا واسطہ پہنچتے رہتے ہیں اس لئے میں نے محسوس کیا ہے کہ جب تک بچپن سے ہم اپنی اولا د کو زبان کا ادب نہیں سکھاتے اس وقت تک آئندہ بڑے ہو کر قوم میں ان کے کردار کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتے اور ان کی بد خلقیاں بعض نہایت ہی خطرناک فساد پیدا کرسکتی ہیں۔جن کے نتیجے میں دکھ پھیل سکتے ہیں جماعتیں بٹ سکتی ہیں، منافقتیں پیدا ہوسکتی ہیں ، سلسلے سے انحراف کے واقعات ہو سکتے ہیں کیونکہ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن کو لوگ معمولی سمجھتے ہیں جن کے اوپر آئندہ