سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 152 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 152

152 کہ جس کا کوئی پہلو بھی جھوٹ کی ملونی اپنے اندر نہ رکھتا ہو لیکن یہ ہیں بڑے اور اونچے اور بلند منصو بے جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے پیش کئے ہیں۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا ه (النساء:70) کتنے عظیم الشان اور بلند منصوبے ہیں لیکن ان کا آغاز سچ سے ہوتا ہے اور کوئی شخص صالح بھی نہیں بن سکتا جب تک وہ سچا نہ ہو۔اس لئے بہت ہی اہم بات ہے کہ ہم اپنے بچوں کو شروع ہی سے نرمی سے بھی اور سختی سے بھی سچ پر قائم کریں اور کسی قیمت پر ان کے جھوٹے مذاق کو بھی برداشت نہ کریں۔یہ کام اگر مائیں کر لیں تو باقی مراحل جو ہیں قوم کے لئے بہت ہی آسان ہو جائیں گے اور ایسے بچے جو کچے ہوں اگر وہ بعد میں لجنہ کی تنظیم کے سپرد کئے یا خدام الاحمدیہ کی تنظیم کے سپرد کئے جائیں ان سے وہ ہر قسم کا کام لے سکتے ہیں کیونکہ سچ کے بغیر وہ Fiber میسر نہیں آتا وہ تانا بانانہیں ملتا جس کے ذریعے آپ بوجھ ڈال سکتے ہیں یا منصوبے بنا کران کو ان میں استعمال کر سکتے ہیں۔جھوٹی قو میں کمزور ہوتی ہیں ان کے اندر اعلیٰ قدریں برداشت کرنے کی طاقت ہی نہیں ہوا کرتی لیکن یہ ایک بڑا لمبا تفصیلی مضمون ہے اس کو آپ فی الحال نظر انداز فرما ئیں۔یہ یقین رکھیں کہ حج کے بغیر کسی اعلیٰ قدر کی کسی اعلیٰ منصوبے کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ میں بچپن سے ہی سچ کی عادت ڈالنا اور مضبوطی سے اپنی اولادوں کو بیچ پر قائم کرنا نہایت ضروری ہے اور جو بڑے ہو چکے ہیں ان پر اس پہلو سے نظر رکھنا اور ایسے پروگرام بنانا کہ بار بار خدام اور انصار اور بجنات اس طرف متوجہ ہوتی رہیں کہ سچائی کی کتنی بڑی قیمت ہے اور کتنی بڑی جماعت کو اس وقت اور دنیا کو جماعت کی وساطت سے ضرورت ہے۔پاک زبان کا استعمال کرنا دوسرا پہلوتر بیت کا نرم اور پاک زبان استعمال کرنا اور ایک دوسرے کا ادب کرنا ہے۔یہ بھی بظاہر چھوٹی سی بات ہے ابتدائی چیز ہے لیکن جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے وہ سارے جھگڑے جو جماعت کے اندر نجی طور پر پیدا ہوتے ہیں یا ایک دوسرے سے تعلقات میں پیدا ہوتے ہیں ان میں جھوٹ کے بعد سب سے بڑا دخل اس بات کا ہے کہ بعض لوگوں کو نرم خوئی کے ساتھ کلام کرنا نہیں آتا۔ان کی زبان میں درشتنگی پائی جاتی ہے۔ان کی باتوں اور طرز میں تکلیف دینے کا ایک رجحان پایا جاتا ہے جس سے بسا اوقات وہ باخبر ہی نہیں ہوتے۔جس طرح کانٹے دکھ دیتے ہیں اور ان کو پتا نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں اسی طرح بعض لوگ روحانی طور پر سوکھ کے کانٹے بن جاتے ہیں اور ان کی روز مرہ کی باتیں چاروں طرف دکھ بکھیر رہی ہوتی ہیں،