سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 135 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 135

135 خیال تھا کہ جب یہ مقبول ہوا اور اس کے اچھے اثرات ہوئے تو پھر مختلف موضوعات پر جلسے بنا دئے جائیں گے۔جلسہ، B جلسہ ، C جلسہ کبھی ایک جلسہ ہو جائے اور پھر اگلی دفعہ دوسرا جلسہ اس گاؤں میں ہو جائے اور اگر ترتیب کے ساتھ ہم سارے دیہات کو تقسیم کر لیں نمبروں کے لحاظ سے تو ہر نیا نمائندہ اپنے ساتھ ایک گاؤں میں ایک نیا پروگرام لے کر پہنچ سکتا ہے اور بہت سے ایسے مضامین جو ان دیہاتوں تک نہیں پہنچتے اور جلسے میں بھی سب کو کہاں توفیق ملتی ہے بہت معمولی حصہ ہے جو جلسوں تک پہنچ سکتا ہے۔دور دور کی جماعتوں کے لوگ تو بہت بھاری تعداد میں محروم رہ جاتے ہیں پھر جلسے پر آنے والے بھی ہر وقت جلسہ نہیں سنتے۔مصروفیات ہیں کئی قسم کی ، پھر وہ جب سن رہے ہوتے ہیں تو تو جہات ادھر ادھر ہو جاتی ہیں۔پھر جلسے کی تقریروں کے انتخاب میں مقاصد اور ہوتے ہیں بعض دفعہ اور ٹھوس بنیادی تربیت مسلسل جلسے کی تقریر کا مقصد نہیں ہوتی۔یہ پروگرام ہر علاقے کی ضرورتوں کے مطابق ہوں گے تو اس پہلو سے اگر اچھے مضامین کا انتخاب کیا جائے اچھی نظمیں پڑھنے والے کی نظمیں اس میں ریکارڈ کی جائیں اور ایک جلسہ بنا لیا اس کو پہلے پھیلا دیا پھر اس سلسلے میں ایک اور جلسہ بنالیا اور یہ جلسے ہر علاقے کی ضرورتوں کے مطابق مختلف ہوں گے ایک پروگرام ہر جگہ نافذ نہیں ہوسکتا لیکن ایک طرز ضرور نافذ ہوسکتی ہے۔تو امید ہے کہ اس پہلو سے بھی جماعتیں متوجہ ہوں گی اور گاؤں گاؤں میں بستی بستی میں ایسے تربیتی اجلاس شروع ہو جائیں گے۔جہاں تک تبلیغی اجلاسوں کا تعلق ہے پاکستان جیسے ملک میں یا بعض اور ممالک میں ان پر تو پابندی ہو بھی سکتی ہے کسی حد تک اور دخل اندازی کی جاتی ہے تو تربیت کے پہلو سے بھی کریں گے وہ لیکن إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهَ اکثر دیہات میں اس کی سہولت ہوگی اور میں نہیں سمجھتا کہ اس پروگرام کو نافذ کرنے میں پاکستان جیسے ملک میں بھی کسی قسم کی دقت ہو اور اگر ہو تو جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے قربانی کے میدانوں میں بڑی ثابت قدمی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ہر قسم کے دباؤ کو بڑی مومنانہ جرات اور بہادری سے رد کر رہی ہے اور مقابلوں کے لئے دن بدن اور زیادہ آمادہ ہوتی چلی جارہی ہے۔اس لئے یہ پروگرام اپنی ذات میں اتنے مفید اور اتنے گہرے اور ضروری ہیں کہ اگر ان کے نتیجے میں جیسے کہ پہلے جماعت کو قربانی دینی پڑی ہے کہیں کچھ قربانی دینی پڑے تو میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان کی جماعت اس معاملے میں کسی قسم کا تر ددکا اظہار کرے۔جہاں تک باقی دنیا کا تعلق ہے جو آزاد دنیا ہے جہاں انسانی قدروں کی حفاظت کی جاتی ہے جہاں انسانی قدروں کی قدر کی جاتی ہے یہ ساری دنیا وسیع پڑی ہے آپ کے سامنے اور احمدیت کے صداقت کے تحت اقدام ہے۔احمدیت کی صداقت کے قدموں کے نیچے ہے۔تو یہاں تو کسی قسم کی روک کا سوال ہی نہیں