سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 134 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 134

134 بھی ایک اور پروگرام ساتھ چلایا جاسکتا ہے جلسے میں اور ٹیسٹس میں بھر کر دیہات میں پہنچائے جائیں۔انصار کو خوش الحانی سے تلاوت کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے یہ تجربہ میں نے وقف جدید میں کیا تھا اور اگر چہ تھوڑے پیمانے پر ہوا لیکن اللہ تعالی کے فضل سے جہاں جہاں ہوا اس سے بہت ہی شاندار اور حوصلہ افزا نتائج نکلے۔جلسے سے مراد میری یہ ہے کہ ہم عمو ماً جب معلمین کو ، انسپکٹر ان کو یا دیگر جماعتی نمائندوں کو دوروں پر بھجواتے ہیں تو یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ معیاری جلسہ وہاں منعقد کر اسکیں گے اور جماعت پوری طرح اس سے استفادہ کر سکے گی۔حالانکہ بہت سے ایسے آپ کے سلسلے کے کارکن ہیں یا خدام اور انصار کے نمائندہ ہیں جن کی اپنی تلاوت اچھی نہیں ہے یا تلاوت صحیح کر سکتے ہیں تو آواز بھونڈی ہے۔بے اختیاری ہے بیچاروں کی اس میں اختیار ہی کسی کا کوئی نہیں۔جو آپ نے سنے ہوں گے قصے کہ وہ آواز اچھی کرنے والی گولیاں ملتی ہیں بازاروں میں یہ سب جھوٹ اور قصے ہیں محض۔آواز اللہ کی طرف انعام ہے، اس کی طرف سے ایک تحفہ۔جس بیچارے کو نصیب نہ ہو مجبور ہے۔بعض تو میں نے دیکھا تلاوت ایسی خوفناک کرتے ہیں کہ لوگ بھاگتے ہیں اس سے۔بد آواز والے موذن کا قصہ وہ آپ نے سنا ہو گا قصہ ایک جگہ کہتے ہیں ایک بہت ہی خوش الحان اذان دینے والا اذان دیا کرتا تھا ہند و آبادی تھی اور اس کا ایسا اثر تھا اس کی آواز کا ایسا جادو تھا کہ جن ہندو گھروں تک وہ آواز پہنچتی تھی وہ اسلام کی طرف مائل ہونے لگ گئے۔ایک ہندو ساہوکار کی بیٹی یہ روزانہ سنتی تھی اور اس کی دن بدن حالت بدلتی چلی گئی اور اسلام کی محبت اس کے دل میں بھر گئی۔تب اس کے باپ کو خیال آیا کہ اس کا کچھ کرنا چاہئے یہ نصیحتوں سے تو مانے گی نہیں۔اس نے اس مؤذن کو بہت سے پیسے دئے کہ میاں تم یہ گاؤں چھوڑ جاؤ اور ایک نہایت ہی بد آواز والے شخص کو پیسے دئے کہ تم یہاں مؤذن بن جاؤ اور چند دن میں ہی دیکھتے دیکھتے اس کا سارا اثر زائل ہو گیا۔یہ لطیفہ کے طور پر سنا ہوا ہے قصے کے طور پر لیکن محض قصہ نہیں ہے ان باتوں میں بڑی گہرائی ہے۔اس لئے ایسے مربیان یا ایسے معلمین یا الگ دوسرے نمائندگان جو مختلف جماعتوں میں جاتے ہیں ہرگز ضروری نہیں ہے کہ ان کی تلاوت اچھی ہو، ان کی آواز اچھی ہو اور وہ اثر پیدا کرسکیں پھر ان کی تقریر کے انداز بھی الگ الگ ہوں گے اور ایک سلسلے کے عالم کی تقریر کا مقابلہ تو وہ نہیں کر سکتے اور پھر علماء علماء میں بھی فرق ہے۔اس لئے ان باتوں کو سوچتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ پورا جلسہ ریکارڈ کراؤں۔چنانچہ اس زمانے میں نیا نیا کیسٹ ریکارڈر ایجاد ہوا تھا اس میں میں نے ایک جلسہ بنایا۔ایک بہت اچھی تلاوت میں کسی سے نظم پڑھائی پھر ایک مضمون پر خاص موضوع چن کے اس میں تقریر بھر وائی اور