سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 136
136 پیدا ہوتا۔کھلے دل کے ساتھ خدا پر توکل کرتے ہوئے حکمت کے ساتھ دعاؤں کے ساتھ آگے قدم بڑھاتے رہیں اور ٹھوس تربیت کا یہ بقیہ سال منادیں اور بقیہ سال نہیں بلکہ اس ساری صدی کو ٹھوس تربیت کی صدی بنانا ہے اور یہ جو آپ کام کریں گے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں اس کے بہت ہی نیک اثرات اور ٹھوس اثرات مدتوں تک نسلاً بعد نسل ظاہر ہوتے چلے جائیں گے اور بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچاتے رہیں گے۔اور اس کے سوا اب ہمارے لئے اور چارہ بھی کوئی نہیں۔کثرت سے غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں قو میں داخل ہو رہی ہیں اور اس سال جو آپ نے نظارہ ردیکھا ہے یہ ایک ابتدائی نشان ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے۔ایک نمونہ ہے چھوٹا سا۔آئندہ ایک ایک سال میں لکھوکھہا آدمیوں کو قبول کرنے کے لئے آپ نے تیار ہونا ہے۔جونئی نسل کے واقفین ہیں ان کو بڑے ہونے میں وقت لگے گا وہ جب انشاء اللہ بڑے ہوں گے تو اپنی ذمہ داریوں کو ضرور سنبھالیں گے لیکن ان کے آنے سے پہلے پہلے جو درمیان میں ایک خلا ہے اس کو ساری جماعت نے مل کر پر کرنے کی کوشش کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور آئندہ صدی کی تمام ذمہ داریوں کو اس شان کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ خدا کی پیار کی نگاہیں ہم پر پڑیں خواہ دنیا ہم سے راضی ہو یا نہ ہو۔آمین۔( خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 566-576) گورنمنٹ کی طرف سے ذیلی تنظیموں کے اجتماعات کے انعقاد کی مشروط اجازت پر تبصرہ (خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 1989ء) اب کچھ دنوں سے کچھ ایسے آثار ظاہر ہونے شروع ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت پنجاب جماعت اسلامی کے اس حد تک زیر اثر نہیں رہی اور کچھ جماعت اسلامی کے پنجہ سے نکلنے کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔چنانچہ حال ہی میں ربوہ میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کو اور مجلس انصاراللہ مرکزیہ کو جو مرکزی اجتماع منعقد کرنے کی اجازت دی گئی ہے یہ بھی اسی رجحان کی نشاندہی کرنے والی باتیں ہیں۔اس سے پہلے ایک لمبے عرصے تک اجتماعات کا انقطاع رہا۔اب بھی جو اجازت دی گئی ہے وہ بہت ہی بوجھل دل کے ساتھ اور بے دلی کے ساتھ دی گئی ہے۔چنانچہ خدام الاحمدیہ کو یہ تاکید ہے کہ آپ کا اجتماع بیت الاقصیٰ میں ہو اور اس سے باہر کوئی اجتماع نہ ہو اور اس پر بھی پابندی یہ ہے کہ کسی قسم کا لاؤڈ سپیکر استعمال نہ ہو۔اب یہ عقل کے خلاف بات ہے کہ پاکستان بھر کے نوجوانوں کا اجتماع ہو اور وہ ایک مسجد کے اندر سما جائے۔بیت الاقصیٰ خصوصیت