سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 84
84 کیا اکثر صورتوں میں پریذیڈنٹ کو یا امیر کو بنے بنائے جو خلصین مل جائیں وہ ان پر راضی رہتا ہے اور خود مخلص بنانا آتا نہیں۔اور آج کل ہم جس دور میں سے گزر رہے ہیں ہمیں کثرت کے ساتھ ان دونوں میں سے صف اول کے مومنین کی ضرورت ہے کیونکہ مسائل اور مشکلات بڑھتے جارہے ہیں۔کچھ ایسے ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے ظاہر ہو چکے ہیں۔بہت سے ایسے ہیں جن کی دشمن تیاری کر رہا ہے، جن کی خبریں ہمیں دنیا کے کونے کونے سے موصول ہورہی ہیں۔اگر آپ کو یہ اندازہ ہو کہ جماعت احمدیہ کی مخالفت کے لئے کتنے نئے سکول اور کالج اور جامعہ کھولنے کا منصوبہ بن چکا ہے، اس کی شرارت کے جتنے بھی پہلوممکن ہیں ان سب کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کی جاچکی ہے، اربوں روپیہ دنیا میں خرچ کر کے آئندہ نسلوں میں جماعت احمدیہ کے خلاف زہر پھیلانے اور مشکلات کے بیج بونے کے جو سامان کئے جا رہے ہیں اگر ان کا آپ کو اندازہ ہو تو آپ میں سے جو کمزور ہیں وہ ممکن ہے مایوس ہو جا ئیں۔بہت بڑی بڑی طاقتیں ہیں جو اس پر کام کر رہی ہیں اور ایسے دنیا کے ممالک جن میں اس وقت آپ کو امن دکھائی دے رہا ہے ان کے متعلق بھی نہایت ہی خطرناک منصوبے ہیں جو اس وقت زیر عمل ہیں تو ہر جگہ کے امراء اور پریذیڈنٹ صاحبان اور دیگر کارندوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے کہ آئندہ بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے پیش نظر ہمیں ابھی سے خدمت دین کی صف اول میں کام کرنے والوں کی تعداد کو بڑھانا چاہئے۔اس سلسلے میں کچھ نفسیاتی روکیں بھی ہیں جن کا تجزیہ ضروری ہے ورنہ بہت سے امیر اور پریذیڈنٹ صاحبان ایسے ہوں گے جن کو پتا ہی نہیں ہوگا اپنا کہ ہم کیوں یہ کام نہیں کر رہے۔کچھ تو جیسا کہ میں نے ایک پہلے خطبہ میں بھی اشارہ کیا تھا اپنی بے وقوفی کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ کچھ لوگ ہمارے ساتھی ہیں اور کچھ لوگ ہمارے دشمن ہیں یعنی ناجائز طور پر بے وجہ بعض احمد یوں پر اعتماد نہیں کرتے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو ہیں ہمارے مخالفین ان کو ایک طرف چھوڑ دو اور یہ چند لوگ اچھے ہیں یا مخالف نہ بھی سمجھیں تو بدظنی کرتے ہیں۔جب ان سے پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں جی! یہاں تو قحط الرجال ہے۔کام کرنے والے ملتے ہی کوئی نہیں۔قحط الرجال تو نہیں ہے لیکن قحط العقل ضرور ہو سکتا ہے۔قرآن کریم بتا رہا ہے کہ قحط الرجال نہیں ہوتا۔بہت سے لوگ خاموش بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں تمہیں نظر نہیں آرہے ہوتے۔اس دور کی آزمائش نے ہمیں بتا دیا کہ ہمارے ہاں کثرت سے ہیں ایسے لوگ جن میں الرجال بننے کی خاصیت موجود ہے، ان کو اگر صحیح طریق پر آپ آگے لانے کی کوشش کریں تو بہت اچھے اچھے لوگ آپ کے پاس موجود ہیں جن کو آپ نظر انداز کئے بیٹھے ہیں۔پس بہت سے امراء ہیں جو بدظنی کرتے ہیں حالانکہ در حقیقت اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو دنیا کے کسی دور میں بھی قحط الرجال نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔سب سے زیادہ خطرناک دور جسے قحط الرجال کا دور کہا جاسکتا ہے وہ انبیاء کے ظہور کا دور ہوا کرتا ہے۔ایک دفعہ تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ ایک شخص کے سوا خدا تعالیٰ