سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 83
83 $1987 جماعتی و ذیلی تنظیموں کے عہدیداران خدمت دین کے لئے تمام افراد سے کام لیں اور خدام دین کی تعداد بڑھائیں (خطبہ جمعہ 14 اگست 1987ء) " ہمارے امراء اور پریذیڈنٹ صاحبان اور دیگر عہدیداران کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ مومنوں کے پہلے دو درجات جن کو صف اول اور صف دوئم کے درجے کے مومن قرار دیا جا سکتا ہے ان کا اس آیت میں ذکر ہے۔ایک وہ ہیں جو ہر حال میں، ہر مشکل کے وقت بہر حال سابقون میں شامل رہتے ہیں اور خدا کی خاطر ہر مصیبت کے دور میں بھی خدمت دین سے پیچھے نہیں ہٹتے۔بہت سے امراء اور عہدیداران ہیں جو ان کے حال پر نظر رکھ کر راضی ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ جو خدمت دین ادا کر رہے ہیں بس یہی کافی ہیں۔حالانکہ ایک اور طبقہ بھی ہے جس کا اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے اور وہ ہے بیٹھ رہنے والوں کا دوسرا طبقہ جو ایمان کے لحاظ سے زخمی نہیں ہوتے حقیقۂ مومنوں کے ساتھ ہی ہیں اور ان سے بھی خدا تعالیٰ حسن سلوک فرمائے گا لیکن وہ ایسا طبقہ ہے جو عملا عظیم قومی جہاد میں شامل نہیں ہے۔ایسے لوگ ، بہت سے ایسے منتظمین ہیں چند نہیں بلکہ بہت سے ایسے منتظمین ہیں، جہاں تک میں نے دنیا کی جماعتوں کا جائزہ لیا ہے میرا خیال ہے بدقسمتی سے اکثریت ہمارے منتظمین کی ایسی ہے جو اس دوسرے طبقے کو نظر انداز کر دیتی ہے اور ان پر کام نہیں کرتی۔نتیجہ ان کی جماعتوں کی حالت یکساں سی رہتی ہے۔یعنی مقامی کوششوں کے نتیجے میں وہ ترقی نہیں کرتی۔دیگر حالات تبدیل ہو جائیں بیرونی اثرات کے نتیجے میں ممکن ہے ان میں سے بعض سوئے ہوئے بھی جاگ اٹھیں۔یعنی جہاں تک مقامی منتظمین کا تعلق ہے وہ نیم خوابیدہ طبقہ جو ضائع نہیں ہوا مگر جاگ کر قومی جہاد میں حصہ بھی نہیں لے رہا اس کی طرف وہ متوجہ نہیں ہوتے۔چنانچہ بعض ایسی جماعتیں ہیں کہ بیسیوں سال سے وہ اسی حالت میں ہیں جو خدا تعالیٰ کی تقدیر سے خود بخو دا چھے لوگ نکل کر آگے آگئے ،خدمت دین میں پیش پیش ہیں انہی کے کام کے مجموعہ کو ہم جماعت کے کام کا مجموعہ قرار دے سکتے ہیں لیکن جو نسبتا کمزور تھے یا خاموش بیٹھ رہنے والے تھے ان کو بیدار کرنے اور صف اول میں شامل کرنے کی کوئی انتظامی کوشش نہیں کی گئی۔آج بھی ایسا حال ہے بعض جماعتیں میرے آنکھوں کے سامنے ہیں جن کے امراء مسلسل یہ خیال رکھتے ہیں کہ نسبتا پیچھے رہنے والوں کو محنت کر کے آگے لایا جائے اور ان کو عظیم الشان درجات سے محروم نہ رکھا جائے۔چنانچہ دن بدن ان جماعتوں کی حالت پہلے سے بہتر ہوتی چلی جاتی ہے اور جیسا کہ میں نے بیان