سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 85

85 نے ہر دوسرے انسان کو ر ڈ فرما دیا ہے۔ایک وجود ابھرتا ہے اور اس کے اردگر دسارے فساد کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔وہ لوگ جو انتہائی ردی حالت میں دکھائی دے رہے ہوتے ہیں وہ وجود ان پر ہاتھ ڈالتا ہے اور ان کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی شروع کر دیتا ہے۔يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايته وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِين O (الجمعة: 3) یہ نقشہ ابھر نے لگتا ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنا قحط الرجال ممکن ہوسکتا تھا وہ تھا بظاہر لیکن اللہ کی تقدیر نے ثابت کیا کہ خدا کے بہادر بندوں کے سامنے قحط الرجال نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔جو اللہ پر توکل کرنے والے ہوتے ہیں۔دعاؤں سے خدا کی مدد مانگتے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ اپنے اموال اور اپنی جانوں سے کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ان کو خدا یہ تو فیق بخشتا ہے کہ جہاں مرد نظر نہ آرہے ہوں وہاں سے مرد پیدا کر کے دکھا دیتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ گوبر کے ٹکڑے نظر آتے تھے جن پر ہاتھ ڈال محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور چمکتی ہوئی سونے کی ڈلیوں میں تبدیل فرما دیا۔( القصائد الاحمدیہ صفحہ : 3) پس آپ بھی تو اسی کے غلام ہیں، اسی کی محبت کا دعویٰ کرنے والے ہیں ، اسی عظیم وجود کے کام کو آگے بڑھانے کا عہد لے کر اٹھے ہیں۔اس لئے جماعت احمدیہ کے افراد کو اگر کوئی امیر یہ کہہ کر رد کرتا ہے کہ یہاں قحط الرجال ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔اس کے ہاں عقل کا یا ایمان کا قحط ہو سکتا ہے لیکن قحط الرجال نہیں ، اگر قحط الرجال ہوتا نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ تو اس وقت پاکستان کے اکثر احمدی مرتد ہو چکے ہوتے۔میں یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ پوری طرح بے عملی کا شکار ہیں لیکن نسبتیں ہوا کرتی ہیں، یہ دوگر وہ خدا تعالیٰ نے نمایاں طور پر دکھائے ہیں یہ مطلب نہیں کہ ان کے درمیان کوئی اور ٹکڑا ہی نہیں آتا ، درجہ بدرجہ فرق پڑا کرتے ہیں۔پس اس وقت میرا جائزہ یہ ہے کہ جماعت، ساری دنیا کی جماعتوں میں، اکثر جماعتوں میں اکثر احمدی ایسے ہیں جو ابھی صف اول کے مجاہد نہیں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ غیر معمولی کام کی گنجائش موجود ہے۔اگر آپ ان سب کی تمام صلاحیتوں کو صف اول کی صلاحیتوں میں تبدیل کر دیں تو اتنی بڑی طاقت جماعت احمد یہ بن چکی ہے کہ ساری دنیا کی طاقتیں مل کے بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔یہ طاقتیں خدا نے دیکھیں ہیں تو ہم پر بوجھ ڈالے ہیں، یہ طاقتیں خدا کی تقدیر کو دکھائی گئی ہیں تبھی اتنے بڑے بڑے ابتلاؤں میں سے جماعت کو خدا تعالیٰ نے گزارنا شروع کیا ہے۔کمزور، پیچھے ہٹنے والوں پر بھی تھوڑی تھوڑی ذمہ داری ڈالیں پس ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے امرائے جماعت پر اور