سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 76
76 عبادات کے مزے چکھانے شروع کر دو۔معلوم ہوتا ہے اس میں یہ فیصلے کی قوت پیدا ہو چکی ہے کہ ہاں میں نے کچھ کرنا ہے۔اس لئے اس اختیار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو بتانا شروع کر دو لیکن Passive یعنی ایسے رنگ میں اثر کو قبول کرنا کہ جس میں ارادے کا نمایاں دخل نہ ہو یہ عمر جتنی چھوٹی ہواتنا ہی اس عمل میں زیادہ شدت پائی جاتی ہے۔اس لئے جتنا چھوٹا بچہ ہوا تنازیادہ اثر پذیر ہوتا ہے قوت فیصلہ کے ذریعہ نہیں بلکہ طبعی طور پر Instinctive طور پر۔وہ جب ماں باپ کو مسکراتے دیکھ رہا ہوتا ہے تو بعض دفعہ ماں باپ کی مسکراہٹ کی ایک جھلک بلا ارادہ اس کی مسکراہٹ میں اس طرح داخل ہو جاتی ہے کہ وہ بڑھاپے تک قائم رہتی ہے۔ماں باپ کی باتیں کرنے کا طریق ، ان کے غصے کا اظہار کیسے ہوتا ہے، وہ خوش کیسے ہوتے ہیں۔یہ ساری وہ چیزیں ہیں جو بچہ قبول کر رہا ہے لیکن ارادہ کے ساتھ نہیں کر رہا اور چونکہ ارادے کے ساتھ نہیں کر رہا اس لئے ایک طبعی فطری عمل کے طور پر چیزیں اس کے اندر داخل ہورہی ہیں۔جو چیزیں اس دور میں طبعی فطری عمل کے طور پر اس کے اندر داخل ہو جائیں بعد میں ان کو بالا رادہ طور پر ڈھال لینا اور ان کو زیادہ خوبصورت بنادینا یہ ممکن ہے لیکن جو اس عمر میں اس کے اندر داخل ہی نہ ہوئی ہیں وہ خلا ہیں جو پھر بعد میں بھرے نہیں جاسکتے۔سات سال سے قبل بچوں کو تنظیموں کے سپرد نہ کرنے کی حکمت اس لئے جب ہم سات سال کی عمر سے پہلے بچے کو تنظیموں کے سپرد نہیں کرتے ہیں تو دوسری حکمتوں کے علاوہ ایک حکمت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادے کو ڈھالنے کے لئے تو اجازت دی ہے اس طرح کیونکہ شریعت میں اپنا ارادہ شامل ہونا ضروری ہے۔شریعت میں صرف دوسرے کا ارادہ کافی نہیں ہے۔اس لئے جہاں شرعی فرائض یا مناہی آجاتے ہیں وہاں سات سال سے پہلے بچے کو احکام جاری کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ایسیا حکام جاری کرنے کی اجازت نہیں بچن احکام میں اس کے ارادے کا دخل ہو پس یہ وہ فرق ہے جس کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔دوسری اہمیت اس بات کو بہت ہے کہ بہت چھوٹی عمر میں بچوں کو ماں باپ کے سوا کسی دوسرے کے زیراثر لانا یہ خود ایک غیر نفسیاتی حرکت ہے۔اگر آپ بہت چھوٹی عمر میں بچوں کو ان کے ماں باپ سے علیحدہ کر دیں یا ماں باپ کے متعلق یہ سمجھیں کہ ان کو ان بچوں کی تربیت کا حق نہیں بلکہ اس سے زیادہ کسی تنظیم کو حق ہے تو یہ عملاً اشتراکیت کی طرف ایک نہایت ہی سنگین قدم ہے اور واقعہ اشترا کی نظریہ کے ساتھ اس کا گہرا جوڑ ہے۔یعنی ایسا نظریہ جو سطحی اشتراکیوں کا نظریہ نہیں بلکہ جو ان کے فلسفے کی جان ہے اس نظریے کی روح سے اگر آپ دیکھیں تو ان کے نزدیک سوسائٹی بالغ ہی تب ہوگی جب پہلے دن کا بچہ بھی سٹیٹ کے زیر اثر آ جائے۔