سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 75 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 75

75 بچپن میں سات سال کی اہمیت تو قرآن کریم میں جب فرماتا ہے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا تو اس میں جہاں تک اولاد کا تعلق ہے یہ بچانے کا عمل پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے اور اگر سات سال کی عمر خصوصیت کے ساتھ اہمیت رکھتی ہے جیسا کہ سائنسدان کہتے ہیں اور بعض فرق بھی کرتے ہیں بعض سات سال کو کچھ بڑھا دیتے ہیں بعض کچھ کم کر دیتے ہیں لیکن عموماً اس پر یہ اتفاق ہے کہ سات سال کے لگ بھگ عمر بہت ہی اہمیت رکھتی ہے وہاں پہنچ کر بچہ نفسیاتی لحاظ سے پختگی میں داخل ہو جاتا ہے یعنی پختگی کی جانب قدم اٹھانے لگتا ہے تیزی سے اور وہ کچی عمر نفسیاتی جواثر کو قبول کرنے والی عمر ہوتی ہے وہ سب سے زیادہ حساس سات سال سے پہلے پہلے ہی ہے۔اس لئے جہاں تک اس کی اہمیت کا تعلق ہے اس سے تو کوئی انکار نہیں ہے لیکن جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو دیکھتے ہیں تو جہاں تک فرائض کا تعلق ہے ان کا آغا ز سات سال کی عمر سے نرمی کے ساتھ ہوتا ہے اور تربیت کا جو ظاہری رسمی دور ہے وہ سات سال کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔دس سال کی عمر کے بعد بچوں کو مارنے کی اجازت بھی مل جاتی ہے اور بارہ سال کی عمر کے بعد پھر ان کو اتنا پختہ سمجھا جاتا ہے کہ اب وہ بالکل آزاد ہیں نصیحت کرو لیکن ان پر ہاتھ نہیں اٹھانا۔جو کچھ تم نے کرنا تھا تم کر چکے ہو اس خیال سے جماعتی نظام میں اطفال کی عمر سات سال کے بعد مقرر کی گئی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے اس عمر کی یہ اہمیت تو بہر حال ملتی تھی کہ اس کے بعد تربیت رسمی طور پر بھی با قاعدہ شروع کر دی جائے لیکن دوسرے ارشادات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ تربیت کا دور پہلے بھی جاری تھا۔اس کے کچھ اور پہلو ہیں اور اس دور کے بعد کچھ اور پہلو ہیں۔اس نقطۂ نگاہ سے جب ہم مزید غور کرتے ہیں تو بعض اور ایسے ارشادات نظر آتے ہیں جس کا اس مضمون سے تعلق ہے مثلاً بچے کی خیار کی عمر کیا ہے؟ یہ ایک ایسی بحث ہے جو فقہاء میں چل رہی ہے کہ اگر بچے سے یہ پوچھنا ہو کہ تم نے ماں کے پاس رہنا ہے یا باپ کے پاس جانا ہے علیحدگی کی صورت میں تو وہ کون سی عمر ہے۔بہت سے فقہاء سات سال کی عمر بتاتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو نو سال یا دس سال کی عمر بتاتے ہیں لیکن سات سال سے کم نہیں کوئی بتاتا ہے۔سات سال کا یقینا کوئی تعلق ضرور ہے اور سات سے دس سال کی عمر اس لحاظ بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ یہ ایک موڑ کا دور ہے۔سات سال سے پہلے کچا دور ہے اثر پذیر ہونے کا۔سات سال کی عمر تک اپنے فیصلے کا کچھ نہ کچھ اختیار بچے کو ہو جاتا ہے، کچھ شعور پیدا ہو جاتا ہے اور اسی لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات سال کی عمر سے اس کو نصیحت کر کے نمازیں پڑھاؤ۔(ابو داؤد كتاب الصلواة حديث نمبر : 417)