سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 77

77 - وہ فلسفہ یہ کہتا ہے کہ جب ماں اور باپ بچوں پر اثر ڈالنا شروع کریں ابتدائی عمر میں اس کے بعد سٹیٹ پھر اپنی مرضی میں ان کو پوری طرح ڈھال ہی نہیں سکتی ہے۔وہ بھی یہ جانتے ہیں ، اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ابتدائی دور بہت اہمیت رکھتا ہے۔اس لئے وہ کہتے ہیں کہ پہلے دن کا بچہ ہی سٹیسٹ کا بچہ ہے ، ماں باپ کا ہے ہی نہیں اور ماں باپ کا ہونا یہ ایک تصور پایا جاتا ہے کہ اس ماں باپ کا بچہ ہے، اس تصور کی جڑ ضرور کاٹنی ہے۔اس لئے شادی کا نظام ہی اٹھ جانا چاہئے۔یہ ہے ان کی آخری تھیوری یعنی اس نظریے کا آخری قدم۔مذہبی سوسائٹی میں جب وہ باتیں کرتے ہیں تو اس طرح پوری تفصیل سے وہ اپنے اس نظریے سے واقف نہیں کرواتے۔ان کو یہ ڈر ہے کہ اگر مثلاً پاکستان کے غرباء میں خواہ وہ کتنے ہی غریب کیوں نہ ہوں یہ بتایا جائے کہ بالآخر جب تم کیمونسٹ ہو جاؤ گے اور اشتراکیت کا یہاں قبضہ ہو جائے گا ہم یہ سلوک تم سے کریں گے، تمہارا شادی کا نظام ختم کر دیں گے تمہیں اپنے بچوں کا پتہ بھی نہیں لگنے دیں گے ہسپتالوں میں جا کر بچے کرواؤ گے اور ہسپتالوں کے جو بچے ہیں وہ حکومت اٹھا لے گی۔ماں کو فارغ کر کے پھر کارخانے بھیج دیا جائے گا یا جہاں بھی اس کو بھجوانا ہوگا۔یہ ایسا بنیادی نظریہ ہے جس کو ٹالا نہیں جاسکتا ہے۔جب پوچھا جائے کہ آپ اس پر عمل کیوں نہیں کر رہے تو کہتے ہیں کہ ابھی ہم پختہ نہیں ہوئے ،ابھی اشتراکیت کا بہت سا حصہ ایسا ہے جو عمل کی دنیا میں نہیں ڈھالا گیا ہے کیونکہ ہم ابھی اس کو پوری طرح قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔لیکن لاز ما آخری قدم یہ اٹھنا ہے ورنہ اس کے بغیر اشتراکیت کا نظام ستحکم نہیں ہوسکتا ہے، اس کے اندر تضادات رہ جائیں گے۔تربیت میں والدین کی ذمہ داریاں تو اس پہلو سے بھی دیکھا جائے تو سات سال تک کی عمر کی اہمیت یعنی پہلے دن کے بچے کی اہمیت ان لوگوں کے ذہن میں بھی واضح ہے لیکن اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ کلیہ بچوں کو اپنا لویعنی نظام کے سپر د کر دو۔ہاں ماں باپ کے اوپر ذمہ داریاں بڑھاتا چلا جاتا ہے اور ان کو بار بار توجہ دلاتا چلا جاتا ہے۔اسلام میں چونکہ عائلی نظام ہے اور عائلی نظام کا اس سوشلسٹ تصور سے ایک براہ راست ٹکراؤ ہے، بیک وقت دونوں قائم نہیں رہ سکتے۔اس لئے حضرت مصلح موعودؓ جو دین کی گہری فراست رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی تائید اور ہدایت کے تابع خواہ وہ لفظوں میں ہو یا عملاً ہو، اس کے تابع جماعت احمد یہ کیلئے ایک اصلاح کا نظام قائم فرمارہے تھے اور چونکہ آپ کے اوپر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان مقبول دعاؤں کا سایہ تھا جو آپ کی پیدائش سے بھی پہلے کی گئی تھیں اور آپ کی پیدائش سے بھی پہلے ان کی مقبولیت کے متعلق آپ کو کھلے لفظوں میں مطلع کر دیا گیا تھا کہ جس طرح کا تم چاہتے ہو ویسا ہی بیٹا میں تمہیں عطا کروں گا۔اس لئے حضرت مصلح موعودؓ سے اس بنیادی معاملہ میں غلطی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔یہ حکمت تھی سات سال کے بعد بچوں کو نظام