سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 66
66 میں یہ کہہ رہا ہوں کہ لجنہ گھروں میں نماز کو قائم کرنے کے طریقے سمجھائے اور مستورات کو یہ بتائے کہ تم نے کیا مدد کرنی ہے سوسائٹی کی نماز کے قیام کے سلسلہ میں اور پھر یہ رپورٹیں لے کہ وہ کس حد تک نماز کو اپنے گھروں میں قائم کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں یہ ذمہ داری ڈال رہا ہوں۔خدام کو نصیحت اور اسی طرح خدام نو جوانوں کو یہ تلقین نہ کریں کہ تم نماز میں آؤ بلکہ یہ تلقین کریں کہ تم خود بھی آؤ اور اپنے بھائیوں کو بھی نماز پر قائم کرو اور اپنے والدین کو بھی نماز پر قائم کرنے کی کوشش کرو کیونکہ بعض جگہ ایسا بھی ہورہا ہے کہ بظاہر الٹ ہو جاتا ہے لیکن ہو رہا ہے بعض بچے مجھے خط لکھتے ہیں نو جوان کہ ہمیں بہت تکلیف ہے، ہمارے والد صاحب نماز نہیں پڑھتے اور ہم بہت سمجھاتے ہیں لیکن وہ باز نہیں آرہے نماز کی ان کو عادت ہی نہیں ہے اس لئے آپ ان کو خط لکھیں۔چنانچہ ایک بچے نے بڑے درد سے مجھے خط لکھا اور میں نے پھر واقعہ اس کو خط لکھا اور پھر مجھے بڑی خوشی ہوئی یہ سن کر یعنی وہاں کی امارت کی طرف سے اطلاع ملی کہ اس خط نے اثر دکھایا ہے اور اس نے نماز شروع کر دی ہے خدا کے فضل سے۔تو اگر ایسے نو جوان اگر بے قرار ہوں اپنے ماں باپ کو نماز پڑھانے کے لئے تو وہ بھی بڑا کام کر سکتے ہیں اور دعا کے ساتھ مانگیں گے تو اس سے بہت غیر معمولی فائدہ پہنچے گا۔دعاؤں کی تحریک کریں گے دوسروں کو تو اس طرح بھی خدا کے فضل سے فائدہ پہنچے گا۔انصار سے خطاب انصار کو یہ توجہ دلانی چاہئے اپنے ممبران کو کہ تم اس عمر میں داخل ہو گئے ہو جہاں جواب دہی کے قریب تر جا رہے ہو تم ویسے تو ہر شخص جواب دہی کے قریب تر رہتا ہے ایک لحاظ سے لیکن انصار بحیثیت جماعت کے قریب تر ہیں اپنی جواب دہی کے اور جو وقت پہلے گزر چکا اس کے خلا جو رہ گئے ان کو پر کرنا بھی شروع کریں تو پھر تو اُن کے اوپر دوہرا کام آجاتا ہے۔وقت کی ذمہ داریاں پوری کریں اور گزشتہ گزرے ہوئے وقت کے خلا بھی پورے کریں۔ان کو اس طرح بیدار کیا جائے بتا کر کہ ان کو فکر پیدا ہوا اپنی۔وَلْتَنْظُرُ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ کہو کہ تم پر سب سے زیادہ اطلاق پاتی ہے یہ آیت۔تمہیں فکر کرنی چاہئے کل کے لئے تم نے کیا آگے بھیجا ہے اور وہاں غد کے معنی روز قیامت بن جائے گا وہاں غد کے معنی سوال و جواب اور محشر کا وقت بن جائے گا اس لئے ان کو بیدار کریں ہلائیں جگائیں کہیں تم اگر اپنے گھروں میں نماز قائم کئے