سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 65

65 ذیلی تنظیمیں خصوصیت کے ساتھ میری مخاطب ہیں۔۔۔۔پس میرا آج کا خطبہ صرف اسی موضوع سے تعلق رکھتا ہے اور جب میں نے کہا جماعت کی تنظیمیں تو خصوصیت سے انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ یہ تینوں میرے سامنے تھیں۔جماعت احمدیہ کا اصل بنیادی نظام کا ڈھانچہ تو صدارت یا امارت کا نظام ہے لیکن اس قسم کے کاموں میں جہاں ایک War_footing پر کام کرنے ہوتے ہیں یعنی جیسے ایک عظیم جنگ میں مصروف ہو جائے کوئی قوم ، وہاں تنظیموں کے اندر اگر بانٹ دیا جائے اس کام کو تو زیادہ عمدگی کے ساتھ زیادہ تفصیل کے ساتھ نظر رکھتے ہوئے یہ کام آگے بڑھتے ہیں۔اس لئے یہ تین جو نظام ہیں جماعت کی ذیلی تنظیمیں ان سے میں خصوصیت کے ساتھ مخاطب ہوں کہ یہ اپنے اپنے دائرے میں بہت محنت اور بہت کوشش کریں۔ماؤں پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، بہنوں پر بھائیوں پر یعنی خاندان کے اندر والدہ پر اس لئے کہ وہ جوابدہ ہے آخری صورت میں خدا کے سامنے۔یہ خاندانی یونٹ جو ہے یہ کسی نہ کسی تنظیم سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اگر چہ جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے آخری کارخانہ نماز کے قیام کا خاندان ہی ہو گا لیکن اس کارخانے تک پہنچنے کے لئے اسے بیدار کرنے کے لئے ، اسے حرکت دینے کے لئے جماعت کی مختلف تنظیمیں قائم ہیں۔پس لجنہ عورتوں کو تو متوجہ کرے اور آخری نظر اس بات پر رکھے کہ اہل خانہ کے اندر نماز کو قائم کرنے کی ذمہ داری اہل خانہ کی ہے اور عورتوں سے کہیں کہ آپ ہم سے سیکھیں اور پھر اپنے بچوں کو سکھائیں۔اپنے خاوندوں کو اپنے بیٹوں کو اپنی بیٹیوں کو بار بار پانچ وقت نماز کی طرف متوجہ کرتی رہیں۔جو گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں نماز کے وقت اور مسجد قریب ہے یا عبادت کرنے کی جگہ جو بھی ہو وہ قریب ہوعور تیں اٹھا ئیں ان کو کہ ٹھیک ہے کھانا تیار ہوگا لیکن تم نماز پڑھنے جاؤ واپس آؤ پھر آرام سے بیٹھیں گے۔بچوں کو تیار کریں اور جو گھر کی بیٹیاں ہیں ان پر نظر رکھیں۔والدین میں سے باپ کی اول ذمہ داری ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مگر بیٹیوں کے معاملہ میں باپ کے لئے کچھ مشکلات بھی ہوتی ہیں اس کو یہ نہیں پتہ لگتا کہ کب اس نے پڑھنی ہے کب نہیں پڑھنی اس لئے وہاں جب تک ماں مدد نہ کرے اس وقت تک باپ پوری طرح اپنے فرائض کو ادا نہیں کر سکتا اور بھی بہت سے مسائل ہیں نماز سے تعلق رکھنے والے جو ماں سکھا سکتی ہے۔اس لئے لجنہ کا جہاں تک تعلق ہے وہ عورتوں کو سنبھالے اور بچیوں کو سنبھالے اور گھر کے اندران کو طریقے بتائے کہ کس طرح تم نے اپنے گھروں میں نماز کو قائم کرنا ہے یہ بالکل الگ بات ہے۔ایک اور بات آپ کے ذہن میں آسکتی ہے وہ یہ کہ لجنہ نماز کی تلقین کرنا شروع کر دے کہ نماز پڑھا کرو میں یہ نہیں کہ رہا