سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 67
67 بغیر آنکھیں بند کر گئے تو کتنا حسرتناک انجام ہوگا تمہارا۔بے نمازی نسلیں جو اپنے مقصد سے عاری ہیں جن کو خدا نے پیدا کسی اور غرض سے کیا تھا کسی اور طرف رخ اختیار کر چکی ہیں ، وہ پیچھے چھوڑ کر جارہے ہو۔کیا رہا تمہارے ہاتھ میں اور خود خالی ہاتھ جارہے ہو وہاں کوئی بھی تمہارے پاس پیش کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں رہا باقی۔کیا جواب دو گے خدا کو کہ جو امانت تو نے میرے سپرد کی تھی میں نے ان کو یہ بنایا ہے یہ پیچھے چھوڑ کر آیا ہوں۔تو اس رنگ میں بیدار کریں اور پھر یہ عہد کریں اپنا پروگرام ایسا بنا ئیں کہ ان کو سونے پھر اب نہیں دینا۔تنظیمیں ہر ماہ ایک اجلاس میں نماز با جماعت کا جائزہ لے کر اپنا محاسبہ کریں تنظیمیں نسبتاً زیادہ بیدار رہ سکتی ہیں اگر وہ ایک معین پروگرام بنالیں کہ ہر ہفتے یا ہر مہینے میں ایک دفعہ اسی موضوع پر بیٹھا کریں ایک مجلس عاملہ کا اجلاس مقرر ہو جائے ہمیشہ کے لئے آج سے جس کا موضوع سوائے نماز کے کچھ نہ ہو۔اس دن لجنہ بھی نماز کے اوپر غور کر رہی ہو۔خدام بھی نماز پر غور کر رہے ہوں، انصار بھی نماز پر غور کر رہے ہو اور یہ فیصلہ کر لیں ہمیشہ کے لئے کہ اب ہم نے ہر مہینہ کم از کم ایک مرتبہ اس موضوع پر بیٹھنا ہے، غور کرنا ہے اور جہاں حالات ایسے ہیں کہ ہر مہینے نہیں بیٹھ سکتے وہاں دو مہینے مقرر کر لیں ، تین مہینے مقرر کر لیں مگر جہاں مقرر کریں پھر اس پہ قائم رہیں ، اس پر صبر دکھا ئیں اور وہ ہر دفعہ جائزہ لیا کریں کہ کتنے ہمارے Gains ہیں یعنی کتنا ہمیں فائدہ پہنچا ہے اس عرصے میں کتنے نمازی بنائے ، کتنوں کی نمازوں کی حالت ہم نے درست کی ، کتنوں کو نماز میں لطف حاصل کرنے کے ذرائع بتائے اور ان کی مدد کی اور بہت سے پہلو ہیں وہ ان سب پہلوؤں پر غور کیا کریں اور ہر دفعہ اپنا محاسبہ کریں کہ ہم کچھ مزید حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکے۔اگر اس جہت سے اس طریق پر وہ کام شروع کریں گے تو امید ہے کہ انشاء اللہ بہت تیزی کے ساتھ ہم اپنے مقصد کی طرف بڑھ رہے ہوں گے۔جس کی خاطر ہمیں پیدا کیا گیا ہے اور جب ہم مقصد کی طرف بڑھ جائیں گے اور جب مقصد کو حاصل کر رہے ہوں گے تو پھر فتح ایک ثانوی چیز بن جاتی ہے۔عددی اکثریت اور نصرت اور ظفر کے خواب جو آپ دیکھ رہے ہیں اس سے بڑھ کر یہ خواب آپ کے حق میں آپ کی ذاتوں میں پورے ہو چکے ہوں گے۔پھر یہ خدا کا کام ہوگا کہ آپ کی حفاظت فرمائے، پھر یہ خدا کا کام ہوگا کہ اس دن کو قریب تر لائے جو ظاہری فتح کا بھی دن ہوا کرتا ہے۔جنگ بدر کے موقع پر یہی تو واسطہ دیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو کہ اے خدا! یہ تھوڑی سی جماعت میں نے تیار کی تھی تیری عبادت کرنے والوں کی۔میری ساری محنتوں کا پھل ہے یہ اور تو کہتا ہے کہ کائنات کا پھل ہے یہ ، اگر آج یہ لوگ