سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 39

39 $1983 واضح اور یقینی شرعی مجبوریوں کے سوا سلسلہ کے تمام کارکنان کونمازوں میں پیش پیش ہونا چاہئے با جماعت نمازوں کی پابندی میں ہر مقامی جماعت کی مجلس عاملہ اور تنظیم بالکل اسی طرح ذمہ دار ہے جس طرح مرکزی انجمنیں ( خطبہ جمعہ یکم اپریل 1983ء) میں جماعت کو خصوصیت کے ساتھ عبادت کی ادائیگی کی طرف بلانا چاہتا ہوں۔اگر چہ بعض پہلے خطبات میں بھی میں نے اس کی طرف توجہ دلائی تھی لیکن یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جب تک بار بار اس کی طرف توجہ نہ دلائی جائے اس وقت تک نہ توجہ دلانے والا اپنے رب کے سامنے اپنی ذمہ داری ادا کر سکتا ہے نہ وہ لوگ صحیح معنوں میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔جن کو توجہ دلائی گئی ہو۔ذکر کا مضمون ایک جاری وساری مضمون ہے اس لئے ہمیں بعض امور کی طرف بار بار توجہ دلاتے رہنا پڑیگا خصوصا نماز پر تو اس کا بہت ہی گہرا اثر پڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف آیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے نماز کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ یہ ہے کہ نماز ایسی چیز ہے جو اگر زور لگا کر اور توجہ کے ساتھ کھڑی نہ کی جائے تو گر پڑے گی۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ جو بار بار کہا گیا ہے کہ نماز کو کھڑا کرو، کھڑا کرو، کھڑا کرو، اور بڑی کثرت کے ساتھ مختلف طریق پر بیان کیا گیا ، اس سے اس طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ نماز از خود کھڑی نہیں ہوا کرتی۔جب بھی تم اس کی طرف سے غافل ہو گئے ، یہ گر پڑے گی۔جس طرح ٹینٹ یعنی خیمہ بانس کے سہارے کھڑا ہوتا ہے، اگر بانس نہیں رہے گا تو خیمہ زمین پر آپڑے گا، کمرے کی طرح کی چیز تو نہیں کہ از خود کھڑار ہے۔اسی طرح عبادت بھی ایک ایسی چیز ہے جو از خود کھڑی نہیں ہوتی۔اس کی طرف بار بار توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ سورۃ فاتحہ کی آیت إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین میں یہی مضمون بیان فرمایا گیا ہے کہ اے خدا ہم کمزور ہیں اور عبادت مشکل کام ہے۔ذرا بھی اس سے غافل ہوئے تو اس کا حق ادا کرنے کے اہل نہیں رہیں گے، اس لئے ہر نماز کی ہر رکعت میں ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں التجاء کرتے ہیں کہ ہمیں توفیق بخش کہ ہم نماز کا حق ادا کر سکیں۔اس لئے خصوصیت کے ساتھ نماز کی طرف توجہ دلانا ہمارا اولین فرض ہونا چاہئے۔سارا نظام اس