سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 40

40 نماز کو ہمیشہ اولیت دے۔عبادت کے بغیر حقوق العباد کی ادائیگی کا جذبہ پیدا نہیں ہو سکتا دوسرے اس لئے بھی اس طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کہ مذہب کا مقصد ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔حقوق العباد اس کا دوسرا حصہ ضرور ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ عبادت کے بغیر حقوق العباد کی ادائیگی کا جذ بہ بھی پیدا نہیں ہو سکتا۔دنیا کی کسی قوم نے کبھی حقوق العباد نہیں سیکھے جب تک کہ اللہ نے نہ سکھائے ہوں صحیح معنوں میں حقوق العباد کی آخری بنیاد میں مذہب میں ہی ملتی ہیں۔اس کے سوا تو باقی سب کچھ چھینا جھپٹی اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنا ہے۔حقوق العباد کے نام پر ظلم کی تعلیم تو دی گئی ہے لیکن انسان نے کسی کو حقوق العباد نہیں سکھائے جتنی بھی دنیوی تعلیمات ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حقوق العباد حقیقت میں مذہب سے ہی نکلے ہیں اور وہی لوگ حقوق العباد ادا کر سکتے ہیں جو پہلے اللہ کی عبادت کا حق ادا کریں جن کی عبادتیں کمزور پڑ جائیں وہ حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔جو حقوق اللہ ادا نہیں کرتے ، وہ جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم حقوق العباد ادا کرتے ہیں۔کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ انسان خدا کی عبادت تو نہ کرتا ہو لیکن خدا کے بندوں کے حقوق ادا کر سکے۔غفلت کی حالت میں نماز ادا کر نے والوں کے لئے ہلاکت ہے چنانچہ قرآن کریم اس مضمون کو بہت کھول کر بیان کرتا ہے۔فرماتا ہے۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ۔الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون : 5-6 ) کہ اگر چہ نماز انسان کے لئے زندگی اور اس کی بقا کا موجب ہے اور اس کو فلاح کی طرف لے جاتی ہے لیکن کچھ نمازیں ایسی ہوتی ہیں جو ہلاکت کا پیغام دیتی ہیں فَوَيْلُ لِلْمُصَلین ہلاک ہو جائیں ایسے لوگ ، ایسے نمازیوں پر لعنت ہو۔الذِينَ هُمْ عَنِ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ۔جو نمازیں تو پڑھتے ہیں لیکن غفلت کی حالت میں پڑھتے ہیں۔اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ نماز کی ذمہ داریوں سے غافل رہتے ہیں۔نماز جن تقاضوں کی طرف بلاتی ہے یا جن تقاضوں کی طرف بلانے کے لئے نماز پڑھی جاتی ہے ان سے غافل ہو جاتے ہیں یعنی نہ اللہ کی محبت ان کے دل میں پیدا ہوتی ہے، نہ محض اللہ کام کرنے کی عادت ان کو پڑتی ہے اور نہ وہ حقوق العباد ادا کرتے ہیں، یہ ساری چیزیں نماز کی بنیادی صفات ہیں۔چنانچہ ہلاکت والی نماز ادا کرنے والوں کی یہ تعریف بیان فرمائی گئی الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونُ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُ وُنَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ (الماعون : 6-8 ) یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کے بنیادی مقاصد سے غافل ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ ریا کاری کی خاطر نماز پڑھنے لگتے ہیں۔اپنے رب کی خاطر