سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 473
473 باتیں ہیں جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چند لفظوں میں بیان کرتے ہیں۔اب جب میں نے سمجھا دیا تو پھر دوبارہ سنیں اس تحریر کو تو معلوم ہوگا کہ خوابیدہ نظر کیا معنے رکھتی ہے۔" مگر جولوگ دنیا کی املاک و جائیداد کو اپنا مقصود بالذات بنا لیتے ہیں وہ ایک خوابیدہ نظر سے دین کو دیکھتے ہیں۔مگر حقیقی مومن اور صادق مسلمان کا یہ کام نہیں ہے۔سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو مادام الحیات وقف کر دے"۔جب تک زندگی باقی ہے ان سب چیزوں کو وقف کر دے۔" تا کہ وہ حیات طیبہ کا وارث ہو"۔جن لوگوں کے حق میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ان کو حیات طیبہ عطا ہوئی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگی کا لمحہ محہ موت تک خدا کی راہ میں وقف رہتا ہے۔یہ یادداشتیں، براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 21 تا 30 ، پیغام صلح صفحہ 48 سے یہ عبارت لی گئی ہے۔پھر فرمایا "اے ایمان والو! خدا کی راہ میں اپنی گردن ڈال دو اور شیطانی راہوں کو اختیار مت کرو۔جیسا کہ کلام الہی سے میں نے یہ ثابت کر کے دکھایا تھا کہ اور کا لفظ بظاہر ایک زائد بات کا تقاضا کر رہا ہے مگر حقیقت میں پہلی بات ہی کی تشریح ہے۔بعینہ اسی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ عبارت ہے کہ ” اے ایمان والو خدا کی راہ میں اپنی گردن ڈال دو۔گردن دو طرح سے ڈالی جاتی ہے۔ایک بیل جس کے اوپر، جس کی گردن میں خدمت کا جو اڈالا جاتا ہے وہ بیل جس کو عادت پڑ چکی ہوتی ہے جب جو ا اٹھا کر زمیندار اس کی طرف چلتا ہے گردن پر ڈالنے کے لئے تو میں نے خود دیکھا ہے ایسے بیلوں کو وہ سر نیچے کر دیتے ہیں اور وہ بیل زمنیدار کو بہت پیارے ہوتے ہیں اور کچھ بیل ایسے ہیں جو سینگ مارتے ہیں اور بڑی مشکل سے ان کو قابو کرنا پڑتا ہے رسی کے پھندے ان کے سینگوں پر ڈالنے پڑتے ہیں اور ایک آدمی ایک طرف سے گھسیٹ رہا ہے دوسرے نے جا کر جو اڈال دیا۔تو یہ سلوک تو نہ کرو اپنے اللہ سے۔اس کے بیل ہو اس کے لئے اپنی جان بیچ ڈالی اور گردن جو اکے لئے خم نہ کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں خدا کی راہ میں اپنی گردن ڈال دو۔ایک یہ معنی ہیں۔دوسرا ذبح ہونے کے لئے گردن ڈال دو جیسے حضرت اسماعیل نے اپنی گردن ڈالی تھی۔تو یہ دونوں طریق ایسے ہیں جن میں آپ اپنی جان کے ذریعے اس بات کا اقرار کر رہے ہونگے کہ میں نے یہ جان بیچی ہوئی ہے میری نہیں رہی۔اس کے بعد " اور شیطانی راہوں کو اختیا ر مت کرو" کا یہ مطلب ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ ایسا گردن ڈالنے والا احتمالاً بھی شیطان کی راہ اختیار کر سکتا ہے۔مراد یہ ہے کہ وہ الگ بات ہے، یہ اور بات ہے۔شیطانی راہیں اختیار کرنے والے اور لوگ ہیں اور یہ بالکل اور لوگ ہیں۔اگر شیطان سے بچنا ہے تو گردن ڈالنا ضروری ہے۔لازم ہے کہ خدا کے سامنے اپنی گردن ڈال دو۔"شیطان تمہارا دشمن ہے " وہی آیت کریمہ ہے جو میں نے پہلے پڑھی تھی اسی کا تشریحی ترجمہ ہے