سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 30

30 ہے اور بڑی تیزی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پڑے گی بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں کی زبان ہمیں نہیں آتی۔وہاں بھی کیسٹ کا طریقہ بڑی عمدگی کے ساتھ کام کر سکتا ہے اس کے بعد لٹریچر Follow up کرے گا۔ہم انتظار بہر حال نہیں کر سکتے زبان نہیں آتی تو بغیر زبان کے ہی جانا پڑے گا اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کے مطابق جو ہتھیار میسر ہیں وہ لے کر نکلنا پڑے گا خدا تعالیٰ یہ تو کہتا ہے کہ تم مری آواز پر لبیک کہو اور جو کچھ ہے حاضر کر دو۔مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره:4) ہے جن کی وہ ہم سے توقع رکھتا ہے مگر توفیق سے بڑھ کر کی تو قع ہم سے نہیں رکھتا اس لئے جو کچھ میسر ہے اگر ہم اسے لے کر تبلیغ کے لئے نکل جائیں گے تو مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل آسمان سے نازل ہوگا اور ہر کمی کو پورا کر دے گا۔اس سکیم کو اس طرح چلانا ہے کہ تمام ممالک کے سپر د کچھ اور ممالک کئے جائیں۔جہاں جہاں جماعتیں قائم ہیں ان کو صرف یہ نہ کہا جائے کہ اپنے ملک میں جماعتیں بڑھائیں۔بلکہ تحریک جدید کی طرف سے معین کر دیا جائے۔مثلاً ماریشیس ہے۔اسے کہا جائے کہ افریقہ کے کسی قریبی ملک میں جہاں وہ جاسکتے ہوں۔وہاں انہوں نے احمدیت کا جھنڈا گاڑنا ہے۔افریقہ کے ممالک جو دنیا کے کناروں پر ہیں اور جہاں احمدیت قائم ہے۔وہ اندر کی طرف حرکت کر سکتے ہیں۔شمال کی طرف کمی ہے تو وہاں جاسکتے ہیں فرنچ سپیکنگ افریقہ ( french speaking africa یعنی فرانسیسی بولنے والے افریقی ممالک میں کمزوری ہے تو وہاں داخل ہو سکتے ہیں۔اٹالین سپیکنگ افریقہ Africa italian speaking یعنی اٹالین بولنے والے افریقی علاقوں میں کمی ہے تو وہاں داخل ہو سکتے ہیں۔اصولی اور عمومی منصوبہ بندی کرنا تحریک جدید کا کام ہوگا پھر تفصیلی منصوبہ وہ ملک تیار کرے گا پھر وہ تحریک جدید کو بھیجے گا اور اس کو منظور کروانے کے بعد ایک اجتماعی مرکزی منصوبہ قائم کرے گا۔اس سکیم کے تحت (سوسالہ جوبلی منانے کے لئے ہمارے پاس صرف پانچ چھ سال رہ گئے ہیں۔) اگر تین مہینے کے اندر اندر ہم چھلانگ مارنے کیلئے تیار ہو جائیں اور دعائیں کرتے رہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے توقع ہے کہ ہر سال ہمیں نئے نئے پھل ملنے شروع ہو جائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔منصوبہ کی کامیابی کے لئے دعائیں کریں اس سکیم میں پاکستان کا ایک حصہ دعا کا ہے بڑی کثرت کے ساتھ دعائیں کریں اور بڑی با قاعدگی کے ساتھ دعائیں کریں اتنا گہرا اثر ہوتا ہے دعا کا اور اتنا حیرت انگیز اور معجزانہ اثر ہوتا ہے کہ انسان تصور میں بھی نہیں لاسکتا۔اس سفر کے دوران کئی لحاظ سے مجھ پر بہت بوجھ تھا ایک کے بعد دوسری مجلس میں جانا پڑتا تھا اور خیالات کو مجتمع کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا تھا۔یہاں تک کہ بعض دفعہ بڑے بڑے اہم خطابات کرنے کیلئے