سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 31
31 چند منٹ بھی میسر نہیں آتے تھے۔ادھر ملاقاتیں ختم ہوئیں ادھر جا کر خطاب کیا۔میرے پاس تو صرف یہی دعا کا حربہ تھا اور میں سمجھتا تھا کہ یہ اتنا بڑا حربہ ہے کہ اس کے بعد مجھے فکر ہی نہیں رہتی تھی میں دعا کرتا تھا کہ اللہ میاں! تیرے کام کیلئے نکلا ہوں تو نے ہی سکھانا ہے میری اپنی حیثیت ہی کوئی نہیں۔وقت ملتا بھی اور توفیق نہ ملتی تو بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔اس لئے اپنے فضل سے آپ ہی دماغ میں ڈال آپ ہی جواب سکھا ، آپ ہی مضمون روشن فرما اور توفیق عطا فرما کہ ایسی زبان میں ادا کروں کہ لوگ سمجھ سکیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کا فضل ہوا اور ایسی مجالس میں بھی جہاں بالکل اچانک خطاب کرنے کا موقع ملا، وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے پاک تبدیلی نظر آئی۔چنانچہ ایک ایسی ہی مجلس میں ایک انگر یز آیا ہوا تھا جو بالکل نیا تھا اور اس کو مذہب میں کوئی خاص دلچسپی بھی نہیں تھی ایک دوست اسے پکڑ کر لے آئے اس نے صرف ایک سوال کیا اور اس سوال کا جو جواب خدا نے مجھے سکھا یا وہ میں نے دیدیا۔چند دن ہوئے اس کا خط آیا ہے کہ میں نے ایک ہی سوال کیا تھا اور اس کے جواب سے میرے دل پر اتنا گہرا اثر پڑا ہے کہ مجھے جواب سنتے سنتے یہ یقین ہو گیا تھا کہ یہ کچے لوگ ہیں اس لئے آپ میرے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے قبول حق کی توفیق عطا فرمائے۔پس اصل چیز سچائی ہے آپ کے جواب میں سچائی ہونی چاہئے اور سچائی کی توفیق بھی دعا ہی سے ملتی ہے اور سچائی کے حقوق ادا کرنے کی توفیق بھی دعا ہی سے ملتی ہے۔پس دعائیں کریں اور کثرت کے ساتھ دعائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے سارے منصوبوں کو کامیاب فرمائے اور ان منصوبوں کی کمزوریوں کو دور فرمائے۔نئی نئی راہیں ہم پر کھولے اور ان راہوں پر قدم مارنے کی توفیق بخشے ہر فتح کی اُمید کو ایک حقیقی فتح میں تبدیل کر دے۔ہر فتح ونصرت کی خواب کو ایسی بچی تعبیر میں تبدیل کر دے کہ دنیا بھی اس تعبیر کو دیکھنے لگے۔صرف خواب بین کو وہ نظارہ نظر نہ آرہا ہو بلکہ دنیا کے سامنے وہ نظارہ نقشوں میں اُبھرتا ہوا دکھائی دے رہا ہو۔یہ وہ مقصد ہے جو دعاؤں کے ذریعے سے ہم نے حاصل کرنا ہے اور اگر دردمندانہ دعاؤں کے ساتھ پاکستان کی ساری جماعت کوشش کرے تو ہر ملک جو فتح ہو گا اس میں آپ کا حصہ شامل ہو جائے گا۔یہ ٹھیک ہے کہ روپے پیسے کے ذریعے اب ہم مدد نہیں کر سکتے۔یہاں کی سکیموں میں تو مدد کر سکتے ہیں اور کریں گے انشاء اللہ۔مگر قانون ایسے ہیں کہ ہم اپنا روپیہ باہر نہیں بھجوا سکتے پاکستان اور ہندوستان کے لئے جو پہلے مزے تھے اب وہ نہیں رہے کہ ساری دنیا کا بوجھ پہلے ہندوستان نے اٹھا رکھا تھا پھر پاکستان نے اٹھا رکھا تھا روپیہ باہر بھجوانے میں روکیں پیدا ہو رہی ہیں لیکن کام کے رستے میں روکیں پیدا نہیں ہو رہی ہیں۔ہماری تمناؤں اور خواہشوں کے رستے میں روکیں ضرور پیدا ہو جاتی ہیں جہاں تک کام کا تعلق ہے وہ تو جاری ہے۔