سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 29
29 جاری کی گئی۔اس پر کہاں تک عمل شروع ہو چکا ہے اس کا ابھی جائزہ لینا باقی ہے اب میں پھر تحریک جدید کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں۔اس وقت جو صدر مجلس انصار اللہ ہیں وہی وکیل اعلی تحریک جدید بھی ہیں۔وہ سن رہے ہیں۔وہ نوٹ کریں گے اور انشاء اللہ ذمہ داری کے ساتھ اس پر عمل درآمد کی کوشش کریں گے۔وہ سکیم یہ ہے کہ " سوسالہ جو بلی " منانے سے پہلے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور کچھ تھے پیش کرنے چاہئیں۔خالی نعرے تو خدا تعالیٰ قبول نہیں فرمائے گا۔اس کے لئے تو ایسا عمل صالح چاہیئے جو ہماری ” اللہ اکبر“ کی آواز کو رفعت عطا کرے گا۔یہ نکتہ قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ تمہارے نیک ارادے اور بلند بانگ دعاوی (خواہ نیتیں بھی اچھی ہوں ) اپنی ذات میں اڑنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ زمین پر پڑے رہتے ہیں۔کونسی چیز ان کو اٹھا کر خدا کے عرش تک پہنچاتی ہے؟ وہ تمہارے نیک اعمال ہیں۔إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (فاطر:11) جب نیک اعمال کی قوت ان کو نصیب ہوتی ہے تو تم دیکھو گے کہ وہ عظیم الشان طریق پر اڑنا شرع کر دیں گے اور اتنی بلند پروازی اختیار کریں گے کہ وہ آسمان کے کنگروں تک جا پہنچیں گے۔یہ ہے وہ مضمون جو قرآن کریم ہمیں سکھا رہا ہے اور بڑا سائنٹیفک مضمون ہے جس طرح آپ ایک بہت اچھا جہاز بنا کے رکھ دیں اور اس میں پٹرول نہ ڈالیں تو وہ بیچارہ یونہی پڑا رہے گا۔خواہ کتنی بھی اچھی صنعت ہو۔جہاز میں اگر طاقت نہیں ہوگی تو وہ کس طرح اُڑ سکے گا ؟ تو اسلام سائنٹیفک مذہب ہے کہ مختلف حصوں کی ضروریات کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور اپنی اپنی جگہ ہر ایک کی ضروریات کو تسلیم کرتا ہے محض کہانیوں میں بسنے والا مذہب نہیں ہے۔پس اسلام کی اس تعلیم کے پیش نظر اگر چہ نعرہ ہائے تکبیر بہت ہی پُر لطف چیز ہیں اور بلند ارادے اور دعاوی اور فتح کے خواب دیکھنا بھی بڑا ضروری ہے کیونکہ اسی کے نتیجے میں منصوبے بنتے ہیں لیکن محض یہ چیزیں تو کافی نہیں۔منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے خون کی ضرورت ہے مگر وہ کونسا خون ہے جو ان منصوبوں میں بھرا جائے گا تو وہ زندہ ہوں گے؟ وہ آپ کے اعمال صالح کا یہ خون ہے جب تک آپ اعمال صالحہ کے خون سے ان نیک ارادوں کو نہیں بھرتے ، یہ نیک ارادے زندہ نہیں ہوں گے اور خدا کے حضور قبول نہیں کیے جائیں گے۔صد سالہ جشن کس طرح منائیں پس ہم سو سالہ جشن کس طرح منائیں؟ اور اپنے رب کے حضور کیا پیش کریں۔بہت سی باتوں میں سے ایک یہ بات میرے پیش نظر ہے کہ ہم یہ عہد کریں کہ کم از کم سوممالک میں تبلیغ کے ذریعے اسلام کا جھنڈا گاڑ دیں گے یعنی احمدیت کے ہر سال کیلئے ہم ایک نیا ملک فتح کرلیں گے۔اس کیلئے بھی بہت بڑے منصوبے کی ضرورت