سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 416 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 416

416 ہدایت فرماتا ہے۔اب احسان کا سلوک جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حقوق کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا اور بہت ہی بار یک توازن ہے جو آپ کو لازما اختیار کرنا ہو گا۔اگر ماں اس بات پر راضی ہے کہ آپ دوسروں سے عدل کا سلوک نہ کریں تو پھر آپ کا ماں سے راضی ہونا یا ماں کو راضی رکھنا فرض نہیں ہے بلکہ اگر آپ عدل کو قربان کر کے ایسا کریں گے تو خدا سے بے وفائی کر کے ایسا کریں گے۔لیکن دوسری طرف یہ بھی حکم ہے کہ ماں باپ چاہے زیادتیاں کرتے چلے جائیں ان کے سامنے اُف نہیں کرنی۔ایسی صورت میں ماں باپ کی زیادتیاں برادشت کریں۔وہ جتنے طعنے دیں، جس قدر سخت کلامی کریں آپ اف نہ کریں کیونکہ خدا کی خاطر آپ یہ برداشت کر رہے ہیں لیکن کسی کی حق تلفی نہیں کرنی۔اس کے برعکس دوسری صورت بھی ہے کہ ماں باپ کو ایک ردی کی چیز کے طور پر پھینک دیا جاتا ہے اور بیوی بچوں کے ساتھ ایک انسان عیش وعشرت کی زندگی بسر کرتا ہے۔یہ بھی نہ صرف عدل کے تقاضوں کے بالکل مخالف ہے بلکہ ایک بہت بڑا گناہ بن جاتا ہے۔یہ صورت حال ہے اس کو باریک توازن کے ذریعے درست حالت میں رکھنا ایک بڑامشکل کام ہے۔لیکن اگر آپ غور کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ اصل معاملہ حسنِ خلق یا بداخلاقی کا ہے۔وہ لوگ جن کے اخلاق درست ہوں وہاں یہ مسائل اٹھتے ہی نہیں ہیں۔جن کے اعلیٰ اخلاق ہوں وہاں تو اس بات کا کوئی واہمہ بھی پیدا نہیں ہوسکتا کہ کوئی بیٹا ماں اور بیوی کے حقوق کے درمیان یہ جنگ لڑ رہا ہو کہ کس کو کیا دوں اور کس سے کیسا سلوک کروں۔وہاں تو ہر آدمی ایک دوسرے پر فدا ہورہا ہوتا ہے، ایک دوسرے کے لئے قربانی کر رہا ہوتا ہے۔چنانچہ ماں باپ کے علاوہ ایک دوسری لسٹ لمبی سی ہے ان کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔مائیں، بہوئیں با اخلاق ہوں تو ان کے لئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں پس میں نے جہاں تک ان حالات کا جائزہ لیا ہے مجھے ہر دفعہ بنیادی بیماری اخلاق کی کمزوری دکھائی دیتی ہے جہاں مائیں مثلاً اچھے اخلاق کی ہوں اور بہوئیں بھی اچھے اخلاق کی وہاں مل جائیں وہاں دونوں طرف سے ایسے ایسے پیارے فدائیت کے خط آتے ہیں کہ دل کی گہرائیوں سے از خود دعائیں اٹھتی ہیں اور ایک عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے کہ سبحان اللہ کیسی پیاری بہو اور کیسی پیاری ساس ہے کہ اپنے خطوں میں الگ الگ ایک دوسرے کی تعریفیں ، ان کے لئے دعائیں، انہوں نے ہمارا دل راضی کر دیا۔بہوئیں لکھتی ہیں کہ ہمیں تو بعض دفعہ لگتا ہے وہ ہماری ماں سے زیادہ پیار کرنے والی ہے اور ساسیں لکھتی ہیں کہ ہماری بیٹیوں نے کب ہماری ایسی خدمت کی تھی جیسی یہ بہو کر رہی ہے۔یہ تو بیٹیوں سے بڑھ گئی ہے۔پس جہاں حسن خلق ہو وہاں نا انصافیوں کا تو وہم و گمان بھی باقی نہیں رہتا۔احسان سے معاملہ ایتاء ذی القربیٰ میں داخل ہو جاتا ہے اور دنیا میں انسان کو جنت مل جاتی ہے۔پس میری یہ کوشش ہے اور میں لمبے عرصے سے یہ کوشش کر رہا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے بنیادی اخلاق درست ہو جائیں تو ہمارے تمام معاشرتی اور باہمی لین دین کے