سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 417
417 مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔بنیادی طور پر حق خلق ہے جو حقیقت میں قوموں کو زندہ کیا کرتا ہے اور حق خلق ہی ہے جو دنیا پر غالب آیا کرتا ہے دلائل اور مسائل سے دنیا نہیں جیتی جاتی۔دلائل اور مسائل سے تو بعض دفعہ فساد بڑھتے ہیں۔لیکن حسن خلق سے گھر بھی جیتے جاتے ہیں اور گلیاں بھی جیتی جاتی ہیں اور شہر بھی جیتے جاتے ہیں اور ملک بھی جیتے جاتے ہیں۔تمام دنیا کی فتح حسن خلق پر مبنی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں دعا کے بعد سب سے زیادہ قوی ہتھیار حسن خلق کا ہتھیار تھا۔پس گھریلو مسائل ہوں یا تمدنی مسائل ہوں یا مذہبی مسائل ہوں جماعت احمدیہ کو ایسے اعلیٰ اخلاق اختیار کرنے چاہئیں کہ جن کے نتیجے میں جن کو لوگ مسائل کہتے ہیں وہ دکھائی نہ دیں، مسائل اٹھیں ہی نہ۔کیونکہ اعلیٰ اخلاق کے آدمی کے سامنے مسائل گھلتے رہتے ہیں جیسے غالب کہتا ہے۔پر تو خلد سے ہے شبنم کی فنا کی تعلیم اس طرح بد ا خلاقیاں اور مسائل ایک اعلیٰ اخلاق کے چہرے کے سامنے از خود گھل جاتے ہیں پس وہ اعلیٰ اخلاق ہیں جن کو محمد رسواللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔پڑوسی کے حقوق حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بخاری میں حضرت ابن عمرؓ کی یہ حدیث درج ہے۔ابن عمرؓ، حضرت عائشہ سے بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبریل ہمیشہ مجھے پڑوسی سے حسن سلوک کی تائید کرتا آرہا ہے یہاں تک کہ مجھے خیال ہوا کہ کہیں وہ اسے وارث ہی نہ بنادے۔پڑوسی کے ساتھ اتنا حسن سلوک کہ فرمایا مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آئندہ کبھی آئے تو وارث ہونے کی تعلیم بھی دے دے کہ پڑوسی کو خدا تعالیٰ نے تمہارے اموال میں وارث قرار دے دیا ہے اور یہ وہ رشتہ ہے جس میں مذہب کا اور خون کا کوئی تعلق نہیں ہے۔قرآن کریم میں فرمایا وَ الْجَارِ ذِي الْقُرْبى جو قریبی ہیں اقرباء پڑوسی ہیں ان کا بھی خیال رکھنا ہے۔لیکن جو بے تعلق ہیں ان کے ساتھ بھی برا برحسن سلوک کرنا ہے۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کو مغرب میں بہت کم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں پڑوسی بعض دفعہ اس طرح ساتھ ساتھ رہتے ہیں کہ سالہا سال گزر جاتے ہیں اور کسی کو یہ بھی خبر نہیں ہوتی۔وہ کون ہے کہاں سے آیا۔پھر چلا گیا تو کہاں چلا گیا اور لوگ یہ بات پسند بھی نہیں کرتے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس رنگ میں پڑوسی سے تعلق کی ہدایت فرمائی ہے اس کے پیش نظر یہ تعلقات اجنبی ہونے کی بجائے پسندیدہ ہو سکتے ہیں اور ان پڑوسیوں میں بھی جو اسلام کی روح سے نا آشنا ہیں ان میں بھی اسلام کے حسن کے ذریعہ ان کے دلوں کو فتح کیا جا سکتا ہے۔آنحضور نے ایک موقعہ پر ہدایت فرمائی کہ بہتر ہے کہ ایک عورت اپنے شور بے کو ذرا لمبا کر لے یعنی کھانا