سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 383 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 383

383 فضاء کا مطلب ہے وہ کھلی جگہ جو جنگلوں اور جھاڑیوں کے درمیان اچانک ایک کھلے سے میدان کے طور پر ابھرتی ہے تو چونکہ اس پر کوئی اعراب نہیں ہیں اس لئے دونوں طرح مضمون بہر حال ٹھیک سمجھ آ جاسکتا ہے۔واسطی سے جب پوچھا گیا کہ ذکر کیا ہے تو کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا الخروج من میدان الغفلة۔انسان غفلت کے میدان میں پڑا رہتا ہے۔وہاں سے نکل کر اگر وہ مشاہدہ کے میدان میں آ جائے یا مشاہدہ کی فضا میں داخل ہو جائے۔تو اس کے نتیجے میں، مگر اس کے ساتھ شرطیں ہیں کچھ عـــلـــى غلبة الخوف و شدة الحب۔یہ واقعہ اس طرح ہو کہ دل پر اللہ کا خوف غالب ہو اور دل پر اللہ کی محبت بھی غالب ہو۔بیک وقت خوف اور محبت دل پر غلبہ کر جائیں اس حالت میں جب وہ غفلت کے میدان سے نکل کر مشاہدہ کے میدان میں یا مشاہدہ کی فضا میں داخل ہوتا ہے اس کا نام ذکر ہے۔تو یہ زبان آپ سمجھے کہ نہیں کیا کہنا چاہتے ہیں۔اس پر غور کریں اور سمجھیں کہ یہ بزرگ صوفی کہ جنہوں نے زندگیاں گزاری ہیں۔ذکر الہی کو سمجھنے میں ، اس پر غور کرنے میں، اس میں مصروف رہ کر۔انہوں نے اپنی زندگیوں کے خلاصے کچھ نہ کچھ بیان کئے ہیں۔اور یہ باتیں قابل غور ہیں۔غفلت کے میدان سے مراد یہ ہے کہ میدان تو دونوں زندگی کے میدان ہی دراصل ہیں۔دوالگ الگ میدان نہیں ہیں۔زندگی کے میدان میں آپ غفلت کی حالت میں بھی آپ وقت گزار سکتے ہیں۔آپ کو کچھ پتہ نہیں کہ گردو پیش میں کیا ہورہا ہے کیوں ہورہا ہے آپ تنہا ہیں اس میدان میں کہ اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو شعور عطا ہوتا ہے۔اور آپ مشاہدہ کے میدان میں داخل ہوتے ہیں۔جو باتیں ابھی میں نے پہلے آپ سے کیں تھیں وہ دراصل مشاہدہ کے میدان کی باتیں تھیں۔کھانا تو آپ روز کھاتے ہیں۔ذکر کے بعد بھی کھائیں گے تو میدان تو وہی رہا مگر ایک غفلت کی حالت میں کھانا تھا اور ایک شعور کی حالت میں۔جب شعور کی حالت میں کھاتے ہیں تو کھانے کے ساتھ ایک اور تعلق پیدا ہو جاتا ہے اور وہاں اللہ تعالیٰ یاد بھی آتا ہے اللہ تعالیٰ کا خوف بھی دل میں بڑھتا ہے اور اس کے نتیجے میں کئی قسم کے آپ انسانیت کے راز سیکھ لیتے ہیں۔ایک بزرگ کے متعلق آتا ہے۔کہ ان کے پاس کچھ مرید بیٹھے ہوئے تھے۔اتنے میں ایک لڈوؤں کا ٹوکرا آیا تو ٹوکرا ان کو پیش کیا گیا تو انہوں نے سب میں وہ لڈو بانٹے اور ایک لڈو خود بھی اٹھالیا۔مریدوں نے مزے سے جلدی جلدی سے وہ لڈو کھا لئے۔ختم ہو گئے سارے، ٹوکرا ہی ختم ہو گیا اور ان کے ہاتھ میں وہ لڈو اسی طرح پکڑا ہوا تھا اور وہ ایک ایک دانہ کھا رہے تھے اور کھاتے تھے اور پھر غور میں مبتلا ہو جاتے تھے۔یہ مراد نہیں ہے کہ ہر کھانے والا اسی طرح کھائے مگر بعض دفعہ بعض خاص کیفیتیں تعلق باللہ کی انسان پر اس طرح غالب آ جاتی ہیں کہ اس طرح کھانے میں بھی مزہ آتا ہے۔اور ایک خاص مزہ آتا ہے۔تو ایک شاگرد نے عرض کیا ہم تو لڈو کھا گئے ، مزے کئے ، آپ ایک ہی کو پکڑ کے بیٹھے ہوئے ہیں۔دانہ دانہ کھا رہے ہیں یہ کیا ہو