سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 382
382 میسر آ جانا ، تجارت میں کامیابی وغیرہ وغیرہ۔یہ گانٹھیں ہیں۔ان لوگوں کے لئے گانٹھیں ہیں جو عام طور پر ان چیزوں سے گزرتے ہیں اور خدا کو یاد نہیں کرتے کچھ تو ہیں جن کو یاد آتا ہی چلا جاتا ہے۔تو آغاز اس سے کریں کہ ان چیزوں کو گانٹھیں بنائیں اور خدا کے ذکر کے لئے بہانے بنالیں اور پھر روزانہ دیکھا کریں کہ گانٹھ کر وہ بات یاد آئی بھی تھی کہ نہیں اس طرح کوشش کر کے آپ دوسرے حصے میں داخل ہو جائیں گے جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ کوشش کر کے بات یاد کرنا اور یہ اہلیت رکھنا کہ یاد آ جائے۔اس سے پھر اللہ تعالی نسبتا زیادہ یاد آنا شروع ہوگا اور پھر اس مقام میں داخل ہو جائیں گے کہ جہاں خدا حفظ ہونا شروع ہو جائے گا یعنی از بر ہو جائے گا۔خود بخود بغیر کوشش کے اور جب اس مقام پر پہنچتے ہیں تو پھر آپ کثرت سے اللہ کا زبان سے بھی ذکر کرنے لگتے ہیں اور دل سے یہ پھوٹتا ہے اور خود بخود ظاہر ہوتا ہے اور تمام ماحول اس ذکر سے لذت یاب ہوتا ہے۔کیونکہ آپ کو جو دل کی کیفیات ہیں وہ بیان کرنے کے لئے دل ہی سے طاقت ملتی ہے۔ایک جذبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ ذکر جو ہے وہ لوگوں کے لئے پسندیدہ ہوتا ہے۔اس کے بغیر جوذ کر الہی ہے۔وہ کسی پر اثر نہیں کرسکتا۔چنانچہ آپ تجربہ کر کے دیکھ لیں اگر ان تجارب سے آپ نہ گزرے ہوں اور آپ کسی دہریہ کو کہیں کہ خدا ہے تو آپ کی آواز میں بھی جان ہی نہیں ہوگی۔اس بے چارے نے کہاں سے قبول کرنا ہے۔کہتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ اگر دلیل مانگی تو کیا دوں گا از خود فطری جوش سے بات نہیں نکلتی اور چونکہ خدا حفظ نہیں ہوتا اس لئے اس کی تائید میں کوئی دلیل بھی یاد نہیں رہتی۔جن تجارب کا میں نے ذکر کیا ہے اس میں سے آپ گزریں تو ہر تجربہ جس میں خدا تعالیٰ کی کوئی صفت آپ نے سوچی آپ کے حالات پر صادق آئی آپ نے اس سے لطف اٹھایا۔خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت بن جاتی ہے۔آپ کی زندگی کا ہر واقعہ جس نے خدا یاد دلایا وہ اللہ کے حق میں ایک دلیل ہے۔اور آپ کو اس معاملے میں پھر دنیا میں کوئی شکست نہیں دے سکتا تو ذکر کوزبان سے جاری کرنے سے پہلے جو تمام مرحلے ہیں۔ان کی طرف آپ کو متوجہ رہنا چاہئے۔ذکر کے تعلق میں بزرگوں کے اقوال اب میں بعض ذکر کے تعلق میں بعض دوسرے بزرگوں کے اقوال پیش کرتا ہوں۔کچھ نئے پہلو اس سے آپ کے ذہن میں آجائیں گے۔علامہ قشیری نے ذکر کے متعلق اپنی ایک کتاب میں مختلف بزرگوں کے، صوفیاء کے حوالے اکٹھے کئے ہیں۔اور وہ مختلف بزرگوں کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں اور اپنے تجربوں کے لحاظ سے بھی ذکر کے مختلف پہلو بیان کرتے ہیں۔"سئل الواسطي عن ذكر فقال الخروج من ميدان الغفلة الى فضاء المشاهدة على غلبة الخوف و شدة الحب" یہاں لفظ میں نے فَضَاءُ پڑھا ہے فضاء بھی پڑھا جاسکتا ہے۔فضاء کا مطلب ہے کھلی ہوا اور