سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 384 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 384

384 رہا ہے۔تو انہوں نے کہا کہ میں سوچ رہا ہوں ساتھ ساتھ کہ یہ جو لڈو ہے اس میں جو میدا استعمال ہوا تھا۔وہ کیسے بنا تھا؟ مجھے خیال آتا ہے کہ او ہوا ایک کوئی زمیندار کسی جگہ علی السویرے اٹھ کے جبکہ ابھی دنیا آرام کر رہی تھی۔موسم سردی کا تھا یا گرمی کا نکلا۔اور اس نے ایک بل اٹھایا ساتھ اپنے بیلوں کو جوتا اور دیگر آلات لے کر وہ کھیتوں کی طرف روانہ ہوا۔اس نے وہاں محنت کی گندی جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ کر باہر پھینکا اور اس محنت کے وقت اس کو کیا پتا تھا کہ خدا تعالیٰ اس سے یہ کام کیوں لے رہا ہے اس کو کیا پتہ تھا کہ اس محنت کے پھل کا ایک دانہ میرے منہ میں بھی آئے گا لیکن وہ ایک غفلت کی حالت میں کام کر رہا تھا۔لیکن میں نے سوچا کہ او ہو یہ تو خدا تعالیٰ نے جو تسخیر کائنات کی ہے وہ اس طرح کی ہوئی ہے کہ بے تعلق دور دراز کے لوگ کچھ کام کر رہے ہیں اور انسان کو پتا ہی نہیں کہ دراصل وہ اس کی خدمت کر رہے ہیں۔چنانچہ اس نے محنت کی اور پھر میں نے سوچا کہ او ہو یہ ہل تو لکڑی سے بنا ہو گا اور ساتھ اس کے لوہے کا پھل بھی ہوگا اور بیل بھی آخر کہیں سے آئے ہیں۔ان پر بھی محنتیں ہوئی ہیں۔تو اس سے پہلے ایک ترکھان تھا جو محنت کر رہا تھا۔اس نے لکڑی کو خاص طور سے کاٹا اور پھر مجھے خیال آیا کہ او ہو اس لکڑی سے پہلے ایک لکڑ ہارا بھی تو ہوگا۔اس نے جا کے جنگل سے وہ لکڑی کائی ہوگی اور وہ پھر جنگل کیسے ہوگا۔کہتے ہیں ایک دانہ تو ختم ہو گیا لیکن یہ مضمون تو جاری تھا پھر ایک اور دانہ پھر اور دانہ اور اس طرح مضمون سے مضمون نکلتا چلا گیا اور پھر میٹھا بھی بنا ہے اس کے بعد، پھر گھی بھی آیا ہے کہیں سے، پھر وہ کڑاہ ، جس میں حلوائی نے وہ لڈو بنائے اور پھر وہ نظام تجارت جس کے ذریعے چیزیں بکیں اور دوکان دار تک پہنچی اور پھر آگے آئیں اور پھر وہ کاغذ جن میں لیٹے گئے یا ٹوکرے جنہوں نے بنائے۔تو کہتے ہیں یہ مضمون تو ایک لا متناہی مضمون تھا۔اور اس مضمون کا جو مجھے مزہ آ رہا تھا وہ اس لڈو میں کہاں ہے۔تو لڈو کا مزہ تو جب اللہ کی یاد میں تبدیل ہوا ہے تو ایک حیرت انگیز لطف اس میں پیدا ہو گیا تو یہ ہے مشاہدے کی فضا یعنی جب صوفیاء بات کرتے ہیں کہ غفلت کی فضاء سے ، میدان سے نکلو اور مشاہدے کے میدان میں داخل ہو تو مراد یہ ہے کہ میدان تو وہی ہے یہ دو میدان نہیں ہیں۔اسی میدان میں ہوش آ جاتی ہے اور ہوش آتے آتے انسان وہ چیزیں دیکھنے لگتا ہے جو پہلے ہی موجود تھیں اس کو نظر نہیں آرہیں تھیں۔اور پھر غلبہ خوف اور شدت حب اس کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔بظاہر یہ لگتا ہے کہ عبارت کا مطلب ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے میدان میں داخل ہو حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ ہوش آنے کا نتیجہ ہی خوف ہے۔جس چیز کو خطروں سے آگا ہی نہ ہو۔وہ بے خوف ہوتا ہے۔اس کو کیا پتا کہ آگے میرے لئے کیا پڑا ہوا ہے۔جب اس کو بتایا جائے کہ کیا ہے اور کیا کیا ہلاکتوں کے سامان اس کا انتظار کر رہے ہیں تو ہوش اڑ جاتے ہیں۔تو لاعلمی بھی ایک قسم کی بہادری پیدا کرتی ہے جو جہالت کی بہادری ہے وہ بچی بہادری نہیں ہے۔تبھی بعض تو میں شراب پی