سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 373 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 373

373 چنانچہ اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ که اے محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامو! آپ کے تربیت یافتہ لوگو! ہم جانتے ہیں کہ تم کسی اور مقصد کے لئے نہیں، کسی فائدہ کے لئے نہیں محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے خرچ کرتے ہو۔کیسی عمدہ یاد دہانی فرمائی گئی، ساتھ ساتھ فائدے بھی بیان فرما رہا ہے، ساتھ یہ بھی فکر ہے کہ کہیں فائدے ہی ان کا متاع ، ان کا مقصد، ان کا مطمع نظر نہ بن جائیں۔جو فائدے بیان کئے جاتے ہیں کہیں دل ان فائدوں میں نہ اٹک جائے۔فرمایا یہ فائدے زائد فائدے ہیں۔جو سچے مومن بندے ہیں جن کی تربیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے ان کی ہرگز ان فائدوں پر نظر نہیں ہے۔یہ اللہ کی طرف سے فضل کے طور پر عطا ہونے کے وعدے ہیں۔ان کی نظر صرف اللہ کی رضا پر ہے اور اس توقع کے ساتھ کہ تم ایسے ہی رہو گے ہم تم سے مزید یہ وعدہ کرتے ہیں کہ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرِ يُوَفَ اِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ کہ جو کچھ تم خرچ کرو گے وہ سارا تمہیں واپس کر دیا جائے گا۔وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ تم پر اس معاملہ میں ظلم یعنی کمی نہیں کی جائے گی۔جب عربی میں منفی مضمون اس طرح بیان ہوتا ہے تو یہ مراد نہیں ہوتا کہ جتنا تم نے خرچ کیا ہے پورا پورا دے دیا جائے گا وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ کا مطلب ہے کہ اتنا زیادہ دیا جائے گا کہ کسی ظلم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جتنا تم خرچ کرتے ہو وہ تمہیں لوٹایا جائے گا اور اس سے زیادہ دیا جائے گا، اس سے زیادہ دیا جائے گا، یہاں تک کہ کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔یہ جو عربی محاورہ ہے کہ نفی کے رنگ میں احسان یا مثبت پہلو کو بیان کیا جاتا ہے۔اس کی روشنی میں اس کا یہ مطلب بنے گا کہ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ تمہارے لئے یہ وہم و گمان کرنا بھی مشکل ہو جائے گا کہ گویا کسی پہلو سے تم سے کمی کی گئی ہے۔ہر پہلو سے تمہیں توقع سے بڑھ کر عطا ہوگا۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ دنیا میں جماعت کے مالی نظام میں حصہ لینے والے بھی ان نصیحتوں کو پیش نظر رکھیں گے اور وہ جو اس مالی نظام میں کارندے بنے ہوئے ہیں ، خدمت گار ہیں وہ بھی ان باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے خدمتیں کریں گے اور جن کو اس معاملہ میں خدمت کی تو فیق ملتی ہے ان کے حق میں تو ان سب چندہ دہندگان کی جزا لکھ دی جاتی ہے جو ان کی تحریک سے چندے ادا کرتے ہیں۔پس ایک سیکرٹری مال اپنے آپ کو مظلوم نہ سمجھے کہ مجھے دھکے کھانے پڑتے ہیں، جگہ جگہ دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں۔دن رات مصیبت پڑتی ہے اور پھر لوگ آگے سے باتیں کرتے ہیں۔ان کو یا درکھنا چاہئے کہ ان کی جزا بھی تو بہت زیادہ ہے۔جتنے لوگ ان کی تحریکات کو سن کر محض رضائے باری تعالیٰ کی خاطر انفاق کرتے ہیں۔خدا کی راہ میں خرچ