سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 357
357 نو مبائعین کو نظام جماعت کا حصہ بنا کر دم لیں۔پس اس تربیت کے نظام کو اگر پوری طرح عملی جامہ نہیں پہنایا گیا تو یہ نہ سمجھیں کہ تین مہینے ہو چکے ہیں اس لئے بات آئی گئی ہوگی۔یہ بات اس وقت تک آئی گئی نہیں ہوگی جب تک کہ سب نو مبائعین کی تربیت کا کام اس حد تک پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ جاتا کہ وہ با قاعدہ نظام کا حصہ بن جائیں اور اس ضمن میں ، میں یہ جماعتوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ جیسے کہ میں نے کہا ہے کہ ذیلی تنظیموں سے استفادہ کریں اور کچھ ان پر ذمہ داریاں ڈالیں اور پھر وہ مستقل اس کام کو جاری رکھیں۔اس کے لئے ایک مرکزی ٹیم الگ بنادیں جو تبلیغی کاموں سے علاوہ خالصہ اسی کام کے لئے وقف رہے کیونکہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ جن لوگوں کو تربیت کے لئے خدا تعالیٰ مقرر فرمانا چاہتا ہے ان کا ایک الگ گروہ کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔کیوں نہ ہر قوم سے ایک ایسا فرقہ مرکز میں نہیں آتا جو خالصہ تربیت کے کام کرتا ہے یا کرے گا۔پس میں سمجھتا ہوں کہ تربیت کا نظام تین مہینے کے لئے تو ہنگامی نظام تھا، تین مہینے کے بعد سارا سال بلکہ سالہا سال ہمیشہ کے لئے یہ قرآن کا بیان فرمودہ جاری نظام بن جائے جس کو ہم اس طرح اختیار کر لیں کہ نظام جماعت کا ایک اٹوٹ انگ ہو جائے ، نا قابل جدا حصہ بن جائے۔نظام جماعت میں نئے آنے والوں کی تربیت کے لئے ایک الگ شعبہ اس رنگ کا قائم ہو جائے جو پہلے نہیں تھا۔اصلاح و ارشاد تو ہے تربیت کے سیکرٹری بھی ہیں ، تربیت کے مختلف عہدے موجود ہیں لیکن میں جس بات کا ذکر کر رہا ہوں وہ خصوصیت سے نو مبائعین کے حوالے سے کر رہا ہوں اور اس پہلو سے ہمیں اب مستقلاً ایسے شعبے کے قیام کی ضرورت ہے اور اعلیٰ پیمانے پر اس نظام کو جاری کرنا ضروری ہے کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ اللہ کے فضل کے ساتھ اب ہماری تبلیغی کوششوں کو کثرت سے پھل لگنے والے ہیں۔یہ گزشتہ سال جو واقعہ ہوا ہے کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔یہاں آئندہ زمانوں کے حالات کا ایک پیش خیمہ ہے، آئندہ کیا ہونے والا ہے اس کی خوشخبری دینے والا واقعہ تھا۔پس اللہ کی تائید کی ہوائیں لوگوں کو احمدیت میں داخل کرنے کے لئے چل پڑی ہیں۔انہیں سنبھالنے کی تیاری کرنا انتہائی ضروری ہے ورنہ یہ لوگ خود بھی نقصان اٹھائیں گے جو بغیر تربیت کے پڑے رہیں گے اور آپ کو بھی نقصان پہنچائیں گے اور آپ کے اندر بھی غلط رسمیں جاری کریں گے ، اسلام سے ہٹی ہوئی عادات اپنے ساتھ لے کر آئیں گے اور کئی قسم کی بدیاں ہیں جو ان کے ساتھ داخل ہو جائیں گی۔اس لئے لازم ہے کہ نئے آنے والوں کو پہلے Quarantine میں رکھا جائے ان کی تربیت کی جائے ، ان کے جراثیم دھوئیں جائیں ان کو ہر قسم کے گند سے صاف کیا جائے اور پاک صالح وجود بنا کر نظام جماعت کا حصہ بنایا جائے۔خطبات طاہر جلد 12 صفحہ 823-829)