سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 356 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 356

356 لوٹیں۔ظاہر ہے کہ یہ ایمان لانے والوں پر صادق آنے والا کلام ہے، غیروں سے تو خطاب نہیں کیا جا رہا۔قرآن کریم نے تو چودہ سو سال پہلے خوب کھول کر سمجھا دیا تھا۔جہاں جہاں اسلام پھیلے گا اس پر اطمینان نہ کر لینا ، لازم ہے کہ ان کے نمائندے مرکز میں پہنچیں اور تربیت حاصل کریں اور پھر واپس جا کر اپنی قوم کو دین سکھائیں۔اس پہلو سے یہ سلسلہ بھی اللہ کے فضل سے بہت سے ممالک میں جاری ہوا اور بہت ہی نیک نتائج اس کے ظاہر ہوئے لیکن جہاں جہاں ابھی یہ کام نہیں ہو سکے۔ذیلی تنظیمیں تربیت کے معاملے میں جماعتوں کا ہاتھ بٹائیں میں ذیلی تنظیموں کو خصوصیت سے متوجہ کرتا ہوں کہ وہ تربیت کے معاملے میں جماعتوں کا ہاتھ بٹائیں اور اپنے امراء کو پیشکش کریں اور جو حصہ امراء تربیت کے سلسلے میں ان کے سپرد کریں اس میں وہ آگے بڑھ کر شوق سے حصہ لیں اور اپنے اجتماعات میں لازماً نو مبائعین کو ضرور شامل کیا کریں اور ان کی تربیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے اوپر ذمہ داریوں کے بوجھ ڈالنے شروع کریں۔جو شروع میں شائد بوجھ لگیں پھر بہت ہلکے محسوس ہوں گے اور ان کو نظام کا با قاعدہ حصہ بنائیں اگر اس طرح آپ انجذاب کا کام کریں گے یعنی جذب کرنے کا انتظام کریں تو دیکھتے دیکھتے یہ ایک صالح خون کی طرح آپ کے پاک وجود کا حصہ بن جائیں گے۔اگر ایسا نہیں کریں گے تو نظام از خود ان کو دھکا دے کر باہر نکالے گا جو وجو د نظام میں ہضم نہ ہو سکے، جذب نہ ہو سکے۔اگر اسے نظام باہر نہ نکالے تو وہ نظام فاسد ہو جاتا ہے۔یہی قرآن کریم سے روحانی نظام سے متعلق پتا چلتا ہے اور یہی جسمانی نظام کا حال ہے جو سب دنیا ویسے ہی جانتی ہے۔ہم جو چیز کھاتے ہیں اس کا صالح حصہ ہمارے خون میں جاتا ہے، جذب ہوتا ہے، ہمارے وجود کا حصہ بنتا جاتا ہے، جو چیز فساد کا موجب بن سکتی ہے نظام جسمانی کے لئے خلل کا موجب بن سکتی ہے، اس میں خرابی پیدا کر سکتی ہو، اس کو وہ تمام اعضاء جو خدا تعالیٰ نے اس غرض کے لئے قائم فرمائے ہیں۔باہر نکال دیتے ہیں اور اگر وہ باہر نکالنے کا سلسله از خود نہ ہو تو سارا نظام جسمانی فساد ہو جاتا ہے۔پس یہ بھی ضروری ہے کہ جب آپ تربیت کرتے ہیں ان میں سے جو صالح اور قائم رہنے والے اور پاک طینت لوگ ہیں وہ از خود آپ کے وجود کا مستقل حصہ بنتے چلے جائیں گے اور وہ جو کجی رکھتے ہیں اور غلطی سے جلد بازی میں آگئے ، وہ اسی تربیت کے دوران آپ سے آرام سے الگ ہو جائیں گے اور آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ کون آپ کا ہے اور کون آپ کا نہیں ہے اور جتنے الگ ہوں گے ان کے بدلے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ان سے بہتر زیادہ صالح ، ان سے زیادہ پیار کرنے والے اور زیادہ قربانی کرنے والے لوگ میں تمہیں دوں گا اور کثرت سے دوں گا۔