سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 358 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 358

358 تحریک جدید کے دفتر اول اور دفتر چہارم کی ذمہ دارانصار اللہ ہے خطبہ جمعہ 5 نومبر 1993) " آج میں تحریک جدید کے سالِ نو کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں۔1934 ء سے جب سے تحریک جدید قائم ہوئی ہے آج اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس پر 59 سال پورے ہوتے ہیں اور اب تحریک جدید ساٹھویں سال میں داخل ہو رہی ہے اور اسی حساب سے آج ہم دفتر اول کے ساٹھویں سال میں داخل ہوں گے۔دفتر دوم میں 49 سال پورے ہو چکے ہیں اور دفتر دوم اب خدا تعالیٰ کے فضل سے پہچاسویں سال میں داخل ہو گا۔دفتر سوم کے 28 سال پورے ہو چکے ہیں اور انتیسویں میں داخل ہورہا ہے دفتر چہارم کے آٹھ سال پورے ہو چکے ہیں اور اب خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ نویں سال میں داخل ہورہا ہے۔1946 ء سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے مختلف دفاتر خصوصیت کے ساتھ مختلف تنظیموں کے سپر د کئے تھے۔چنانچہ 1946 ء میں دفتر اول کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے انصار اللہ کے سپر دفرمایا اور بعد ازاں دفتر دوم کو 18 / جنوری 1950ء کو خدام الاحمدیہ کے سپرد کیا۔آپ کے الفاظ یہ تھے : تحریک جدید دفتر دوم کی مضبوطی کا کام اس سال میں نے خدام الاحمدیہ کے سپرد کیا ہے۔“ دفتر سوم کے متعلق میں نے 1982ء میں یہ اعلان کیا تھا کہ یہ کام میں خصوصیت سے لجنہ اماءاللہ کے سپر د کرتا ہوں اور دفتر چہارم کو کسی اور ذیلی تنظیم کی خصوصی تحویل میں دینے کا تو کوئی اعلان نہیں ہوا لیکن چونکہ یہ آخری دفتر تھا اور اس میں زیادہ تر بچے شامل تھے۔اس لئے یہ خود بخودانصار اللہ کے ساتھ ہی منسلک ہو گیا کیونکہ انصار اللہ کی تربیت میں بچوں کی تربیت بھی خصوصیت سے داخل ہے۔بہر حال اگر پہلے با قاعدہ اعلان نہیں بھی ہوا تو اس اعلان کے ذریعہ میں اسے بھی انصار اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔نو مبائعین کو تحریک جدید کے چندے میں شامل کرنے کی ذمہ داری متعلقہ ذیلی تنظیموں کی ہے 1970 ء میں حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے ایک اور بھی تحریک فرمائی اور وہ یہ تھی کہ نومبائعین کو تحریک جدید میں شامل کرنے کی ذمہ داری انصار اللہ پر ہوگی۔اس پہلو سے یہ اعلان آج کے حالات میں تو ایک غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت بڑی تعداد میں نئے احمدی بن رہے ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں غیر قوموں سے غیر مذاہب سے احمدیت میں داخل ہو رہے ہیں اور یہ رفتار آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ اور بھی زیادہ تیزی کے ساتھ ترقی کرے گی اور بڑھتی چلی جائے گی۔اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ انصار اللہ پر یہ ساری ذمہ داری عائد کرنا شاید ان کی طاقت سے بڑھ کر ہو۔اس لئے مناسب