سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 307

307 حکمت کے مضمون کو بیان فرمایا ہے۔حکمت کا ایک معنی ہے منصوبہ بندی۔حکمت کا ایک تقاضا یہ ہے کہ کام شروع کرنے سے پہلے خوب جانچا جائے ، دیکھا جائے ماحول کو خوب پہچانا جائے۔یہ معلوم کیا جائے کہ کوئی چیز کہاں پڑی ہوئی ہے؟ ، کون سے رستے معین ہو سکتے ہیں؟ کہاں کہاں ٹھوکر میں ہیں؟ ، پوری طرح جائزے کے بغیر ، پوری طرح اعداد و شمار اکٹھے کئے بغیر، کوئی منصوبہ کار فرما نہیں ہوسکتا ، کوئی منصوبہ بن ہی نہیں سکتا۔اب تربیت کے متعلق مثلاً میں نے جب پوچھا تو پتا چلا کہ اتنے سرکر دیئے گئے ہیں جماعت کو کہ فلاں فلاں خرابیاں ہیں ان کو دور کرو۔سوال یہ ہے کہ یہ خط جن کو ملتے تھے ، انہوں نے آگے حرکت کی بھی کہ نہیں ، کتنوں پر اس کا اثر پڑا۔کون کون سی مجالس کس کس کمزوری میں مبتلا ہیں اور کون کون سی مجالس کس کس نصیحت کی محتاج ہیں؟ یہ وہ باتیں ہیں جو تفصیلی جائزے کے بغیر معلوم ہو ہی نہیں سکتیں۔تربیت کا کام کرنے سے پہلے اپنا زیروپوائنٹ مقرر کریں اس لئے سب خدمت کرنے والوں کو میری نصیحت یہ ہے کہ سب سے پہلا قدم یہ اٹھائیں بلکہ قدم اٹھانے سے پہلے کہنا چاہئے۔قدم اٹھانے سے پہلے یہ کام کریں کہ اپنا زیرو پوائنٹ مقرر کریں۔جس منزل سے سفر شروع کیا ہے اُس منزل کی تشخیص کریں۔اُس کی تفصیل سے آگاہ ہوں جب میں یہ کہتا ہوں تو آپ کو غالباً کئی مہینے اس تشخیص کے لئے درکار ہوں گے لیکن یہ وقت کا ضیاع نہیں ہے۔اس کے بغیر کام حقیقت میں ہو ہی نہیں سکتا۔مثلا تربیت والا سیکرٹری یا تربیت والی سیکرٹری خواہ مجلس سے تعلق رکھتے ہوں یا جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔جب تک جماعت کے حساب سے ہر جماعت کے متعلق اُن کو یہ علم نہ ہو کہ کتنے مرد، کتنی عورتیں، کتنے بچے نماز با قاعدہ پڑھتے ہیں؟ کتنے ہیں جن کو نماز کے الفاظ صحیح یاد ہیں؟ کتنے ہیں جن کو نماز کا ترجمہ یاد ہے؟ اور نماز کے معاملے میں کیا کیا غفلتیں پائی جاتی ہیں۔کون سے ایسے مسائل ہیں جن سے وہ آگاہ نہیں ہیں اور کس حد تک ان معاملات میں ان کی تربیت کی ضرورت ہے۔کتنے خدام یا انصار یا بچے ایسے ہیں جن کو مساجد تک رسائی ہے اور وہ کسی نہ کسی نماز میں مسجد میں پہنچ کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ کتنے ایسے ہیں جن کے پاس کوئی باجماعت نماز پڑھنے کا انتظام نہیں ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔یہ سارے امور ایسے ہیں جن کی تفصیلی چھان بین کئے بغیر کوئی سیکرٹری تربیت اپنے فرائض کو سرانجام نہیں دے سکتا۔سرکلر بھجوانے کے ساتھ عملی طور پر بھی سمجھا ئیں بجائے اس کے کہ یہ سرکر بھیجا جائے کہ آپ نماز میں ٹھیک کریں۔وہ سرکلر جس کے پاس جائے گا اُس کو سلیقہ نہیں ہو گا کہ کام کیسے کرنا ہے؟ وہ سرکلر دیکھے گا اور اپنی میز پر کسی جگہ رکھ دے گا یا کہیں اعلان کر دے گا کہ نمازیں پڑھا کرو۔یہ اعلان تو چودہ سو سال پہلے سے ہو چکا ہے کہ نمازیں پڑھا کرو۔اس کی کیا اطلاع