سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 306
306 ایجاد کرنے سے ہوتا ہے ورنہ جاہل قوموں کے پاس بھی بڑی بڑی طاقتیں ہیں، ترقی یافتہ قو میں اُن سے طاقت لے کر اپنے کل پرزے چلاتی ہیں اُن کو توفیق نہیں ملتی۔پس نظام جماعت کا تعلق بھی ایک ترقی یافتہ مشین یا ترقی یافتہ کل سے ہے جو روحانی نظام کو جاری وساری کرتی ہے ، روحانی نظام کو چلاتی ہے، اس کل پرزے کو چلانے کا سلیقہ آنا چاہئے۔یہ کارخانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ لفظ استعمال فرمایا کہ یہ کارخانہ ہے جو خدا تعالیٰ نے جاری فرمایا ہے پس خدا نے بہترین، جدید ترین کارخانہ تو عطا فرما دیا اسے چلانے کے لئے سلیقہ بھی تو چاہئے۔اگر طاقت ہو اور کارخانہ موجود ہو اور سلیقہ موجود نہ ہو۔تب بھی کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔میں نے جب مجالس عاملہ سے انٹرویو لئے تو میں نے محسوس کیا کہ بہت سی باتوں میں ابھی علم کی کمی نقصان پہنچا رہی ہے اور جماعت میں جتنی کام کی طاقت ہے اُس سے پوری طرح فائدہ نہیں ہورہا۔اس ضمن میں نظام جماعت سے متعلق بھی میں نے گزشتہ خطبے میں ذکر کیا تھا بعض شعبوں کو نمایاں پیش نظر رکھتے ہوئے نصیحتیں کی تھیں کہ ان شعبوں میں اس طرح کام ہونا چاہئے۔بعض دنیا کی جماعتوں نے اُن باتوں کو سمجھا اور اللہ کے فضل کے ساتھ اچھا جواب دیا، عملی جواب دیا اور ایسی رپورٹیں ملیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ اُن میں اب کام کا سلیقہ پیدا ہو چکا ہے لیکن بہت سی جماعتیں ایسی ہیں جہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ پوری طرح خبر نہیں پہنچی۔پس اگر وہ بات نہیں سنتے تو التفات دگنا ہونا چاہئے ، بار بار مجھے کہنا ہوگا۔مجلس خدام الاحمدیہ کے حوالے سے جو باتیں میں کروں گا اُن کا تعلق محض دیگر تنظیموں سے ہی نہیں جماعت احمدیہ کی انتظامیہ سے بالعموم بھی ہے تمام اس لحاظ سے میرے مخاطب ہیں۔جب کسی احمدی کے سپرد کوئی عہدہ کیا جاتا ہے تو سب سے پہلا اُس کا فرض ہے کہ اُس عہدے کو پہچانیں۔معلوم تو کرے کہ وہ عہدہ ہے کیا ؟ کل اور پرسوں جو ملاقاتیں ہوئیں تنظیموں سے باتیں ہوئیں۔اُن سے مجھے اندازہ ہوا کہ باوجوداس کے کہ جرمنی کی جماعت خدا کے فضل سے بہت ترقی یافتہ جماعت ہے یعنی خدمت کے کاموں میں پیش پیش ہے لیکن مجالس عاملہ کو خود اپنا شعور نہیں ہے اور مجلس عاملہ کے ہر مبر کو خود اپنی ذات میں دائرہ کا رکا پتا نہیں اور یہ پتا نہیں کہ کام کا آغاز کیسے کرنا ہے؟ تعلیم و تربیت کے سیکرٹری سے پوچھیں کہ آپ نے کیا کیا۔میں تو ر پورٹوں میں ذکر کرتا ہوں یا کرتی ہوں۔میں نے اتنے دورے کئے فلاں جگہ ہم گئے اور یہ کام کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ تربیتی مسائل اور تعلیمی مسائل بہت گہرے، بہت وسیع ہیں اور جس شخص کے سپرد یہ کام کیا جاتا ہے جب تک وہ مسائل کی کنہ سے واقف نہ ہو جائے ، اُن کی تہہ تک نہ اتر جائے ، وہ تفصیل سے یہ نہ دیکھے کہ مسائل ہیں کیا اور کہاں کہاں کیا کیا مسائل ہیں؟ اُس وقت تک وہ حقیقت میں خدمت کا حق ادا نہیں کر سکتا۔خواہش بھی ہو گی ، شوق بھی ہوگا ، وقت بھی قربان کر رہا ہو گا لیکن نتیجہ نہیں نکلے گا۔نتیجہ نکلنے کے لئے ایک سلیقہ چاہئے، نتیجہ نکلنے کے لئے حکمت چاہئے ، قرآن کریم نے ہر جگہ جہاں بھی دعوت الی اللہ کا ذکر فرمایا ہے وہاں