سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 308 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 308

308 مسلمانوں کو اب تک نہیں پہنچی۔اعلان سے کیا فائدہ ؟ اس اعلان کو نظر انداز کرنے والوں کی کمزوریوں کو پہچانا جائے۔اُن بیماریوں کی تشخیص کی جائے جن کے نتیجے میں اس الہی اعلان کے سامنے لوگ سر تسلیم خم نہیں کر رہے، استجابت نہیں ہو رہی۔اپنی طرف سے تو یہ چاہتے ہیں کہ جب دعا مانگے خدا قبول کر لے لیکن جب خدا کی آواز کانوں میں پڑتی ہے نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ تو وہ آواز بہرے کانوں پر پڑتی ہے، ایسے مرجھائے ہوئے دلوں پر پڑتی ہے جن میں قبول کرنے کی صلاحیت نہیں۔یہ بیماریاں دور ہوں گی تو پھر نماز قائم ہوگی۔اس کے بغیر کیسے قائم ہو سکتی ہے اور جب تک جماعت وار تشخیص نہ ہو، مجلس وار تشخیص نہ ہو کہ کس کس جماعت میں، کس کس مجلس میں کیا کیا کمزوریاں ہیں؟ کیوں ایسی کیفیت ہے اُس وقت تک صحیح علاج تجویز ہی نہیں ہو سکتا۔اب میں یہاں جانتا ہوں کہ جرمنی کے حالات میں بعض خاص علاقے ایسے ہیں جہاں پاکستان کے بعض علاقوں کے لوگ آئے ہوئے ہیں اور وہ اپنے علاقوں میں بھی بعض روحانی بیماریوں میں مبتلا تھے۔تربیت کے ضمن میں بعض علاقوں میں نماز کی کمزوری پائی جاتی تھی ، بعضوں میں زبان کی کمزوری ہے، زبان کے تلخ ہیں ، بدتمیزی سے بات کرتے ہیں، جلدی غصے میں آتے ہیں ، گالی دینے کی طرف میلان ہے اور ہر وہ حرکت کرتے ہیں زبان سے جو تعلقات کو کاٹنے والی ہے اور یہ عادتیں اُن میں راسخ ہوتی ہیں۔ایسے علاقوں کے لوگ بھی یہاں آئے ہوئے ہیں جو ہل چلاتے وقت روزانہ اپنے بیلوں کو بھی اتنی گندی گالیاں دیتے ہیں کہ اگر بیلوں کو پتا لگ جائے کہ کیا ہو رہا ہے تو وہ بغاوت کر دیں، اپنے پاؤں تلے اُن کو روند ڈالیں لیکن وہ معصوم ہیں اُن کو پتا نہیں کہ ہم سے کیا ہو رہا ہے؟ انسان سے جب سلوک کرتے ہیں تو وہ جماعت جس نے عالمگیر جماعت بنا ہے جس نے ساری جماعت کو ایک ہاتھ پر جمع کرنا ہے وہاں اگر ایسی زبان استعمال ہورہی ہو جو دلوں کو کاٹ رہی ہو جو دھکے دے رہی ہو، جو بد تمیزی کی اور بداخلاقی کی زبان ہو۔تو وہ جماعت کو بھی منتشر کر دے گی کجا یہ کہ غیروں کو اپنی طرف سمیٹیں تو چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن بہت گہرے اثرات والی باتیں ہیں۔ایسی تربیت کیسے ممکن ہے جس تربیت سے پہلے بیماری کا علم ہی نہ ہو۔کام کو پہچانیں اس سے کام بڑھے گا پس سیکرٹری تربیت کا صرف ایک کام آپ پیش نظر رکھیں تو دیکھیں کتنا پھیلتا چلا جارہا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک انسان کے بس کی بات ہی نہیں لیکن سیکرٹری تربیت کی اپنی روزمرہ زندگی کی مصروفیات کو دیکھیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ سرکلر دے کر فارغ ہو کر بیٹھ گیا اُس کو پتا ہی نہیں کہ اُس نے اور کیا کرنا ہے؟ کام پہچانیں گے تو کام بڑھے گا اور جو کاموں کو پہچاننے کی عادت رکھتے ہیں اُن کے کام بڑھتے ہی رہتے ہیں اور محض دعا اور فضل الہی سے سمیٹتے ہیں۔جب کام بڑھتے ہیں تو پھر کچھ اور اس کے نتیجے میں برکتیں خود بخود پیدا