سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 305
305 ہے۔پس وہ لوگ جو ڈش انٹینا والوں کے لئے دعائیں کرتے ہیں وہ لوگ جو جسوال برادران کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔اُن کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ جماعت احمدیہ جرمنی کو بھی اپنی دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیں کیونکہ بہت بڑی قربانی اس جماعت نے پیش کی اور میرے فکر دور کر دیے جب مجھے یہ پیغام بھیجا کہ آپ اس پروگرام کو جاری رکھیں جتنا خرچ ہوتا ہے جماعت احمد یہ جرمنی اُسے پیش کرے گی اور ہر گز ہم اس معاملے میں قدم پیچھے نہیں ہٹا ئیں گے۔جو خرچ ہوتا ہے کرتے چلے جائیں اس پروگرام کو ہمیشہ جاری رکھیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل جماعت جرمنی پر ہمیشہ جاری رکھے ، ان کی نیک قدریں بڑھائے ، ان کی برائیوں کو دور کرتا چلا جائے ، پہلے سے بہتر حال میں ان کو اپنے قریب تر کرتا چلا جائے اور ہمیشہ ہمیش کے لئے اپنے فضلوں کا وارث بنائے۔مجھے تو یہ وہم پیدا ہورہے تھے کہ وقتی جوش نہ ہو ، وقتی شوق نہ ہو، پاکستان کے وہ احمدی دوست جور بوہ میں ہوں یا با ہر ہوں اُن کو دیر سے ملنے کی خواہش تھی اس شوق سے کہیں چند دن آئیں اور پھر یہ رابطے کٹ جائیں۔جب اس بات کا میں نے خطبے میں اظہار کیا تو بہت احتجاجی خطوط ملے اور بعض نے کہا کہ آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ یہاں کیا کیفیت ہے؟ یہاں تو ہر خطبے کے بعد پیاس بڑھ جاتی ہے کم نہیں ہوتی اور اگلے خطبے کے انتظار میں دن گزارتے ہیں یہ جو جذبہ ہے، کیفیت ہے یہ بنانی کسی بندے کے بس کی بات نہیں ہے۔یہ محض آسمان کی تقدیر ہے جو رحمت بن کر آسمان سے اتر رہی ہے۔دلوں کے اندر ایسی پاک تبدیلیاں کرنا محض اللہ کا کام تھا۔پس جب وہ خط پڑھتے ہوئے جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔مجھے حسرت کا وہ شعر یاد آ گیا کہ: حقیقت کھل گئی حسرت تیرے ترک محبت کی تجھے تو وہ پہلے سے بڑھ کر یا د آتے ہیں پس بجائے اس کے کہ یہ رشتے کم ہوں یہ مضبوط تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ جماعت کے دلوں کو اسی طرح محبت کے رشتوں میں مضبوطی سے باندھے رکھے کیونکہ جماعت نام ہے محبت کے رشتوں میں بندھے ہونے کا اور جمعہ کی یہ برکت ہمیں دلوں کو باندھنے کی صورت میں ملی ہے خدا اس برکت کو ہمیشہ بڑھاتا چلا جائے۔متینوں ذیلی تنظیموں کے تنظیمی امور کا تذکرہ اب میں تنظیمی امور سے متعلق مجلس خدام الاحمدیہ، مجلس انصار اللہ اور مجلس لجنہ اماء اللہ سے مخاطب ہوتا ہوں جو باتیں میں اب آپ سے کہوں گا اُن کا تعلق طریق کار سے ہے اور میں نے محسوس کیا ہے کہ اس کی بہت ضرورت ہے کہ بار بار اس موضوع پر خطبات دیئے جائیں اور جماعت کو سمجھایا جائے کہ کام کرنا کیسے ہے؟ جوش اور ولولہ اور شوق اور محبت تو محض ایندھن ہیں اس ایندھن کی طاقت کو استعمال کیسے کرنا ہے؟ یہ کیس