سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 304
304 کے لئے ممکن نہیں ہے کہ کوئی ایسا راستہ تلاش کریں جہاں آپ کے خطبے کی آواز نہ آ رہی ہو۔اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ اُن کے ظلموں کا انتقام اُن سے کیا لیتا۔پس حقیقت میں یہ ظلموں کا انتقام تو ہے لیکن اصل انتقام تو تب ہوگا جب حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا انتقام پاکستان کے علماء سے لیا جائے گا۔وہ جو آپ کی جان کے دشمن تھے وہ آپ کے جانثار دوست بن گئے ، وہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کے پیاسے تھے اپنا سارا خون آپ پر نچھاور کرنے کے لئے ترساں رہتے تھے۔وہ یہ بھی پسند نہیں کرتے تھے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ کو ایک کانٹا بھی چبھ جائے اور اُس کے بدلے اُن کی جان بچ جائے بلکہ ایک موقع پر ایک شہید ہونے والے سے جب پوچھا کہ بتاؤ اس وقت تمہارے دل کی کیا کیفیت ہے؟ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے تمہاری جگہ محمد رسول اللہ آج یہاں ہوتے اور تمہاری جان بچ جاتی۔اُس نے بڑی حقارت سے اُن کو دیکھ کر کہا کہ تم کیا کہہ رہے ہو خدا کی قسم ! میں اپنی جان بچانے کے لئے تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ ایک چھوٹا سا کانٹا بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چبھ جائے۔(سیرت الحلبیہ جلد3 صفحہ 170 مطبع بیروت ) یہ حقیقی انتقام ہے محض تذلیل کوئی انتقام نہیں۔تذلیل کے جذبات سے جماعت احمدیہ کوکلیۂ مبرا ہو جانا چاہئے اصل انتقام محبت اور رحمت کا انتقام ہے ، گالیاں سن کر دعا دینے کا انتقام ہے اور یہی وہ محمد کی انتقام ہے جس نے دنیا کی تقدیر بدلنی ہے۔پس اس انقلاب کے لئے اپنے دلوں کو تیار کریں اپنے دل میں پاک تبدیلیاں پیدا کریں۔نفرت کا جواب محبت سے دینا سیکھیں پھر دیکھیں کہ انشاء اللہ تعالی تمام دنیا حضرت اقدس محمد رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں اکٹھی ہو جائے گی۔ایک اور اقتباس ہے جیکب آباد سے خاتون ھتی ہیں۔ڈش انٹینا ایجاد کرنے والے کے لئے جتنی دعائیں ہم پاکستانی احمدی کرتے ہوں گے دنیا کا کوئی فرد نہیں کرتا ہوگا۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا خاص فضل واحسان ہے کہ ہمارے دلوں کی بے چینی اور کرب کافی حد تک دور ہو گیا ہے۔خصوصاً جو ہم ربوہ سے بھی کافی دورالفضل کے ذریعے خطبات بھی کبھی وقت پر نہیں ملتے تھے ڈاک والوں کا دل چاہے چار پانچ اخبار ا کٹھے کر کے دیئے۔آگے پیچھے کی تاریخوں کا اخبار ملنے سے بڑی کوفت ہوتی تھی۔آپ کو دیکھنے اور ملنے کی آرزو دل میں گھٹی رہتی تھی۔محترمہ امہ الباری صاحبہ کا یہ شعر ہر وقت میرے دل میں رہتا تھا کہ: بے بسی دیکھو کیسٹ سے انہیں سنتے ہیں سامنے میز پر تصویر پڑی رہتی ہے اب تو جمعہ والا دن عید کا دن لگتا ہے یہ تفصیل ان کیفیات کی تمام تر بیان کرنی ممکن تو نہیں ہے مگر میں چند نمونے احباب جرمنی کے سامنے اس لئے رکھ رہا ہوں کہ اس قربانی میں سب سے بڑا حصہ جماعت احمد یہ جرمنی کو دینے کی توفیق ملی