سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 252 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 252

252 لجنہ کے پیچھے پڑا ہوا ہوں کہ خدا کے لئے اس طرف توجہ کرو۔اس نسل کو کم از کم صحیح تلاوت تو سکھا دور نہ ہم خدا کے حضور پوچھے جائیں گے اور ہماری اگلی نسلوں کی بے اعمالیاں بھی ہم سے سوال کریں گی۔ان تینوں تنظیموں کے عہدیداروں کو اس دوران تجربہ ہو جائے گا کہ کس حد تک ہم نے ان نصیحتوں پر عمل کیا ہے اور ہر گھر کو پتا چل جائے گا کہ کس حد تک انہوں نے ان خدمت کرنے والوں سے خود اپنی بھلائی کی خاطر تعاون کیا ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ اس پہلو سے بہت سے خلا ہیں۔" ( خطبات طاہر جلد 11 صفحہ 175) جماعتی عہدے خوف کا مقام ہیں، وہ خدا کے حضور جواب دہ ہیں (خطبہ جمعہ 28 اگست 1992 ء ) بعض دفعہ لوگ جب اسی مکر میں مبتلا ہوتے ہیں تو بعض دفعہ نظام جماعت سے بھی مکر شروع کر دیتے ہیں اور چالاکیوں سے کام لیتے ہیں اور عہدوں کو عزت کا ذریعہ بنا لیتے ہیں حالانکہ جماعتی عہدے جو ہیں وہ تو خوف کا مقام ہیں، اتنی بڑی ذمہ داری کسی پر عائد ہو جس میں وہ خدا کے سامنے جوابدہ ہو، اس کو خود آگے بڑھ کر مانگ کر قبول کرنا یا تو انسان کے کردار کی بہت بڑی عظمت ہے یا بہت بڑی بیوقوفی ہے۔عظمت والی بات تو صرف حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق آتی تھی کہ آپ نے اس امانت کو قبول کر لیا جو خدا نے نازل فرمائی لیکن مانگی نہیں تھی قبول کرنے میں بھی بڑی عظمت تھی لیکن عہدوں کو لالچ میں مانگ کر سوال کر کے یا چالاکیاں کر کے عہدے لینا یہ عظمت نہیں ہے یہ انتہائی بیوقوفی ہے۔اس لئے بیوقوفی ہے کہ اگر آپ کے اوپر ایک ذمہ داری ڈالی جائے تو اس ذمہ داری ڈالنے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے پھر آپ سے غفلت ہوتی ہے تو آپ اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! ہم نے تو تیری خاطر یہ قبول کیا تھا ہمیں تو کوئی شوق نہیں تھا۔تو نے یہ ذمہ داری ہم پر ڈال دی ہے اب ہم سے مغفرت کا سلوک فرما، ہماری پردہ پوشی فرما، غلطیاں ہو جاتی ہیں صرف نظر فرما، تو ایسے شخص کی دعا قبول ہوتی ہے خدا اس کی کمزوریوں سے صرف نظر فرماتا ہے مگر جو شوخی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور اپنی عزت کی خاطر جو بے معنی بات ہے کیونکہ عہدوں میں کوئی عزت نہیں لیکن وہ سمجھتا ہے کہ جماعت کا عہدہ ہے میں سیکرٹری مال بن جاؤں یا امیر مقرر ہو جاؤں تو میری بڑی شان ہو جائے گی جو اس سرسری نظر سے، بیرونی نظر سے عہدوں کو دیکھتا ہے اور آگے بڑھ کر ان کو قبول ہی نہیں کرتا بلکہ شاطرانہ چالوں کے ذریعہ یہ انتظام کرتا ہے کہ عہدہ اس کو ملے، ایسا شخص سوائے اس کے کہ اپنے لئے عذاب سہیڑ رہا ہو، عذاب خرید رہا ہو اس کے سوا اس کو کوئی بھی فائدہ نہیں لیکن نظام جماعت میں بعض